بین الاقوامی سیاست کا ایک عالمگیر اصول ہے کہ ریاستیں اپنے مفادات کی بقا کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ لیکن جب بات افغانستان کی ہو، تو یہ تزویراتی کھیل ایک گہری نظریاتی منافقت اور دوغلے پن کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔ افغان طالبان کی عبوری حکومت، جو داخلی سطح پر خود کو روئے زمین پر اسلام کے نفاذ اور شریعت کی بالادستی کا واحد علمبردار قرار دیتی ہے، آج اپنے روایتی تزویراتی مصلحتوں کے تحت پاکستان کے دیرینہ حریف بھارت کے ساتھ غیر معمولی پینگیں بڑھانے میں مصروف ہے۔ پاکستان کے مقتدر حلقوں اور عوامی سطح پر اس مصلحت پسندانہ طرزِ عمل کو شدید تشویش اور تنقید کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ طرزِ عمل ثابت کرتا ہے کہ افغان طالبان اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کی خاطر مذہبی بیانیے کو صرف ایک آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
تاریخی پس منظر: 1920ء کی تحریکِ ہجرت اور افغان حکومت کی بے وفائی
افغانستان کی جانب سے نظریاتی دعووں اور زمینی حقائق کے مابین یہ تضاد کوئی معاصر واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس کی جڑیں تاریخ میں بہت گہری ہیں۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد جب برصغیر پاک و ہند کے مسلمان خلافتِ عثمانیہ کے زوال اور برطانوی مظالم سے تنگ آ کر اپنے عقیدے کے تحفظ کے لیے تڑپ رہے تھے، تو تحریکِ خلافت کے بطن سے “تحریکِ ہجرت” نے جنم لیا۔ اس دور کے جید علمائے کرام، بالخصوص مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی نے ایک مذہبی فتویٰ جاری کیا جس کے تحت برطانوی ہند کو ‘دارالحرب’ (ایسی سرزمین جہاں اسلام محفوظ نہ ہو) قرار دے کر مسلمانوں کو تاکید کی گئی کہ وہ ‘دارالاسلام’ یعنی افغانستان کی طرف ہجرت کر جائیں۔
اس جذباتی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے برصغیر کے ہزاروں غریب اور معصوم مسلمانوں نے اپنے گھر بار، جائدادیں اور اثاثے کوڑیوں کے دام بیچے اور ہجرت کا سفر اختیار کیا۔ سندھ میں قائم ہونے والی ہجرت کمیٹی نے اس احتجاجی ہجرت کو منظم کیا اور جولائی 1920ء میں لاڑکانہ سے مہاجرین کا پہلا قافلہ جلال آباد پہنچا۔ افغانستان کے امیر امان اللہ خان نے ابتدا میں اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے ان مہاجرین کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں زرعی زمینیں اور ملازمتیں دینے کے بلند و بانگ وعدے کیے۔
تاہم، جیسے ہی تقریباً 18,000 بے سروسامان ہندوستانی مسلمان افغان سرحدوں پر پہنچے، تو افغان ریاست کی معاشی اور انتظامی صلاحیت جواب دے گئی۔ 12 اگست 1920ء کو امیر امان اللہ نے ایک لمحے میں اپنے تمام اسلامی دعووں کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے افغانستان کی سرحدیں بند کر دیں اور مہاجرین کے داخلے پر مکمل پابندی لگا دی۔ اس بے رحمانہ فیصلے کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ مسلمان افغان سرحد پر بھوک، پیاس اور شدید سردی کے باعث سسک سسک کر دم توڑ گئے، جبکہ بچ جانے والوں کو کسمپرسی کی حالت میں واپس لوٹنا پڑا۔ اس واقعے نے یہ واضح کر دیا کہ کابل کے مقتدر طبقے کے نزدیک مذہبی اخوت سے زیادہ اپنے معاشی اور تزویراتی تحفظ کے مصلحت پسندانہ فیصلے اہم ہوتے ہیں۔
پناہ گزینوں کی سیاست: تاریخی تضاد اور معاصر افغان پراپیگنڈا
تاریخ کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ جو افغانستان محض 18,000 مہاجرین کا بوجھ برداشت نہ کر سکا اور اپنے دروازے بند کر دیے، آج اسی ملک کے حکمران اور پروپیگنڈا کرنے والے عناصر پاکستان کی مہاجرین سے متعلق سیکیورٹی پالیسیوں پر زہریلی زبان استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ چالیس سال سے زائد عرصے تک لاکھوں افغان مہاجرین کو نہ صرف پناہ دی بلکہ انہیں اپنی معیشت، معاشرت اور دلوں میں جگہ دی، جو انسانی تاریخ کی طویل ترین اور سب سے بڑی میزبانی کی مثال ہے۔
پاکستان نے اس بھاری انسانی اور معاشی بوجھ کو اسلامی یکجہتی اور اخوت کے تحت برداشت کیا۔ لیکن آج کابل حکومت پاکستان کی سلامتی کو کمزور کرنے کے لیے تحریکِ طالبان پاکستان اور ‘فتنہ الخوارج’ جیسے گروہوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف احسان فراموشی کی بدترین مثال ہے بلکہ ثابت کرتا ہے کہ افغان قیادت مذہب کے نام پر صرف اپنے جیو پولیٹیکل مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔
مشترکہ ڈی این اے کا شرمناک بیانیہ اور بھارت نوازی
جولائی 2026ء میں افغان طالبان کے وزیرِ زراعت مولوی عطاء اللہ عمری نے اپنے سرکاری وفد کے ہمراہ نئی دہلی کا دورہ کیا۔ پاکستان کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات اور سرحدی کشیدگی کے درمیان، یہ دورہ تزویراتی لحاظ سے کابل کی نئی ترجیحات کو ظاہر کر رہا تھا۔ لیکن اس دورے کے دوران موصوف افغان وزیر نے نئی دہلی میں کھڑے ہو کر جو بیان دیا، اس نے ہر غیرت مند مسلمان اور بالخصوص پاکستانیوں کو دنگ کر دیا۔ افغان وزیر کا کہنا تھا کہ “بھارت اور افغانستان کا ڈی این اے ایک ہی ہے” اور بھارت آ کر انہیں یوں لگا جیسے وہ اپنے ہی لوگوں کے درمیان موجود ہوں۔
یہ بیان کابل حکومت کے اس مذہبی بیانیے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جس کے تحت وہ خود کو شریعت کا علمبردار کہتے ہیں۔ مودی حکومت کے تحت بھارت میں مسلمانوں پر جو بدترین مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور کشمیر کے غیور مسلمانوں کا جو استحصال کیا جا رہا ہے، اس سے پوری دنیا واقف ہے۔ ایسے ہندوتوا فاشسٹ ماحول میں جا کر ایک نام نہاد اسلامی امارت کے وزیر کا مودی سرکار سے “ڈی این اے کی مماثلت” کا دعویٰ کرنا اخلاقی اور نظریاتی دیوالیہ پن کی بدترین مثال ہے۔ پاکستانی دفاعی ماہرین کے مطابق، ان دونوں حکومتوں کے ڈی این اے میں اگر کوئی حقیقی مماثلت ہے، تو وہ صرف اور صرف بے گناہ مسلمانوں پر ظلم کرنا اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دینا ہے۔
پاکستانی سلامتی کے خلاف سہ فریقی گٹھ جوڑ
پاکستانی سکیورٹی اور انٹیلی جنس حلقوں کے نزدیک یہ بیان محض ایک اتفاقی جملہ نہیں بلکہ اس خطرناک سہ فریقی گٹھ جوڑ کا حصہ ہے جو بھارت، اسرائیل اور کابل حکومت کے درمیان پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ابھر رہا ہے۔ ممتاز سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی سرکار نے اسرائیل کو اپنا نظریاتی “فادر لینڈ” قرار دے رکھا ہے، اور اب افغان طالبان کا مودی کے ساتھ خونی یکسانیت کا دعویٰ بالواسطہ طور پر کابل، دہلی اور تل ابیب کے اسی پاکستان مخالف گٹھ جوڑ کے فکری تعلق کو آشکار کرتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، کابل میں موجود بھارتی سفارت خانہ مبینہ طور پر دہشت گرد گروہوں کو پاکستان میں سی پیک اور دیگر معاشی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے فنڈز اور ٹریننگ فراہم کر رہا ہے۔ اس صورتحال کے جواب میں پاکستان نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو “جارحانہ دفاع” میں تبدیل کر دیا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے “آپریشن غضبِ حق” کے تحت افغان سرحد کے اندر چھپے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کامیاب اور تباہ کن حملے کر کے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
خلاصہ
تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو کابل کے حکمرانوں نے ہمیشہ اپنے جیو پولیٹیکل مقاصد کے لیے اسلام کو استعمال کیا ہے۔ 1920ء کی تحریکِ ہجرت کے دوران بے بس برصغیر کے مسلمانوں کو سرحد سے دھکیلنے والے افغان حکمران ہوں یا آج کے طالبان جو مودی سرکار کی آغوش میں جا بیٹھے ہیں، ان کا رویہ ہمیشہ خود غرضی پر مبنی رہا ہے۔ پاکستان کو اب کابل کی کسی بھی “مذہبی اخوت” پر مبنی لفاظی کے دھوکے میں آنے کے بجائے اپنی خارجہ پالیسی کو سخت جیو پولیٹیکل حقائق کے تحت استوار کرنا ہوگا اور سرحد پار سے ابھرنے والے خطرات کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔