پی ٹی آئی ناقدین نے عمران خان کی صحت کے تناظر میں آنکھوں کے عطیہ کو ایک انسانی فریضے کے طور پر فروغ دینے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ حکومت نے سابق وزیراعظم کی صحت سے متعلق تمام خدشات کو سائنسی بنیادوں پر مسترد کر دیا ہے

February 17, 2026

کینیڈا میں بھارتی نژاد مجرمانہ گروہوں کی جانب سے بھتہ خوری اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے انکشاف نے سکیورٹی ایجنسیوں کو الرٹ کر دیا ہے؛ وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز

February 17, 2026

یہ چیک پوسٹ مدرسہ سال 2010 سے سکیورٹی فورسز کے استعمال میں تھی۔ دھماکے کے بعد ماموند جانے والی مین شاہراہ مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے اور باجوڑ کی فضاء غم و اندوہ میں ڈوبی ہوئی ہے۔

February 17, 2026

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت افغانستان میں سرگرم شدت پسند دھڑوں کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی اور اتحاد کی علامت ہے۔ یہ پیغام عام طور پر اثر و رسوخ بڑھانے، بھرتی کے عمل کو تقویت دینے اور برصغیر میں اپنی آپریشنل موجودگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔

February 17, 2026

آئینِ پاکستان کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے، جس کے خلاف فتنہ الخوارج کی مسلح بغاوت صریحاً شرعی انحراف ہے؛ ریاست کی سفارت کاری عوامی تحفظ کا خود مختار ذریعہ ہے جسے غداری قرار دینا گمراہ کن پروپیگنڈا ہے

February 17, 2026

ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ 1947 سے پاکستان نے قانون کی حکمرانی، آئینی بالادستی اور استحکام کو اپنی ریاستی پالیسی کا محور بنایا ہے۔ اس کے برعکس شدت پسند عناصر ریاستی اقدامات کو متنازع بنا کر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

February 17, 2026

فتنہ الخوارج کی نظریاتی کمزوری اور فکری دیوالیہ پن، کمزور نظریہ ہمیشہ تشدد کا سہارا لیتا ہے؛ ماہرین

ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ 1947 سے پاکستان نے قانون کی حکمرانی، آئینی بالادستی اور استحکام کو اپنی ریاستی پالیسی کا محور بنایا ہے۔ اس کے برعکس شدت پسند عناصر ریاستی اقدامات کو متنازع بنا کر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
فتنہ الخوارج کی نظریاتی کمزوری اور فکری دیوالیہ پن، کمزور نظریہ ہمیشہ تشدد کا سہارا لیتا ہے؛ ماہرین

ماہرین نے زور دیا کہ امن، استحکام اور آئینی عمل ہی ملک کی ترقی کی ضمانت ہیں، اور مذہب کے نام پر تشدد کو مسترد کرنا معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

February 17, 2026

سیکیورٹی اور فکری حلقوں نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج اپنی کمزور اور متنازع سوچ کو تقویت دینے کے لیے ریاستی سفارت کاری کو غداری کا نام دیتا ہے تاکہ غیر قانونی تشدد اور بغاوت کو جواز فراہم کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے قومی فیصلے، خصوصاً نائن الیون کے بعد امریکہ کے ساتھ تعاون، ایک خودمختار اور آئینی فیصلہ تھا جس کا مقصد ملکی سلامتی، عوام کے تحفظ اور سرحدوں کے دفاع کو یقینی بنانا تھا، نہ کہ کسی بیرونی طاقت کے سامنے جھکنا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام سفارت کاری، معاہدات اور امن کے لیے حکمت عملی کی اجازت دیتا ہے، مگر دہشت گردی، مسلح بغاوت اور بے گناہ افراد کے قتل کو سختی سے حرام قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق ریاستی نظم و ضبط کو چیلنج کرنا اور تشدد کو مذہبی رنگ دینا دراصل دینی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ 1947 سے پاکستان نے قانون کی حکمرانی، آئینی بالادستی اور استحکام کو اپنی ریاستی پالیسی کا محور بنایا ہے۔ اس کے برعکس شدت پسند عناصر ریاستی اقدامات کو متنازع بنا کر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق قومی بیانیے کو مضبوط بنانے اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر آگاہی مہم شروع کی جا رہی ہے، جس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ریاستی سفارت کاری قومی مفاد کا حصہ ہے جبکہ تشدد اور انتشار کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔

ماہرین نے زور دیا کہ امن، استحکام اور آئینی عمل ہی ملک کی ترقی کی ضمانت ہیں، اور مذہب کے نام پر تشدد کو مسترد کرنا معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

دیکھیے: افغان سرزمین اور علاقائی سکیورٹی: طالبان کے بیانیے اور عالمی رپورٹس میں تضاد

متعلقہ مضامین

پی ٹی آئی ناقدین نے عمران خان کی صحت کے تناظر میں آنکھوں کے عطیہ کو ایک انسانی فریضے کے طور پر فروغ دینے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ حکومت نے سابق وزیراعظم کی صحت سے متعلق تمام خدشات کو سائنسی بنیادوں پر مسترد کر دیا ہے

February 17, 2026

کینیڈا میں بھارتی نژاد مجرمانہ گروہوں کی جانب سے بھتہ خوری اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے انکشاف نے سکیورٹی ایجنسیوں کو الرٹ کر دیا ہے؛ وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز

February 17, 2026

یہ چیک پوسٹ مدرسہ سال 2010 سے سکیورٹی فورسز کے استعمال میں تھی۔ دھماکے کے بعد ماموند جانے والی مین شاہراہ مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے اور باجوڑ کی فضاء غم و اندوہ میں ڈوبی ہوئی ہے۔

February 17, 2026

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت افغانستان میں سرگرم شدت پسند دھڑوں کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی اور اتحاد کی علامت ہے۔ یہ پیغام عام طور پر اثر و رسوخ بڑھانے، بھرتی کے عمل کو تقویت دینے اور برصغیر میں اپنی آپریشنل موجودگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔

February 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *