سیکیورٹی اور فکری حلقوں نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج اپنی کمزور اور متنازع سوچ کو تقویت دینے کے لیے ریاستی سفارت کاری کو غداری کا نام دیتا ہے تاکہ غیر قانونی تشدد اور بغاوت کو جواز فراہم کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے قومی فیصلے، خصوصاً نائن الیون کے بعد امریکہ کے ساتھ تعاون، ایک خودمختار اور آئینی فیصلہ تھا جس کا مقصد ملکی سلامتی، عوام کے تحفظ اور سرحدوں کے دفاع کو یقینی بنانا تھا، نہ کہ کسی بیرونی طاقت کے سامنے جھکنا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام سفارت کاری، معاہدات اور امن کے لیے حکمت عملی کی اجازت دیتا ہے، مگر دہشت گردی، مسلح بغاوت اور بے گناہ افراد کے قتل کو سختی سے حرام قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق ریاستی نظم و ضبط کو چیلنج کرنا اور تشدد کو مذہبی رنگ دینا دراصل دینی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ 1947 سے پاکستان نے قانون کی حکمرانی، آئینی بالادستی اور استحکام کو اپنی ریاستی پالیسی کا محور بنایا ہے۔ اس کے برعکس شدت پسند عناصر ریاستی اقدامات کو متنازع بنا کر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق قومی بیانیے کو مضبوط بنانے اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر آگاہی مہم شروع کی جا رہی ہے، جس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ریاستی سفارت کاری قومی مفاد کا حصہ ہے جبکہ تشدد اور انتشار کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔
ماہرین نے زور دیا کہ امن، استحکام اور آئینی عمل ہی ملک کی ترقی کی ضمانت ہیں، اور مذہب کے نام پر تشدد کو مسترد کرنا معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
دیکھیے: افغان سرزمین اور علاقائی سکیورٹی: طالبان کے بیانیے اور عالمی رپورٹس میں تضاد