سابق وزیرِاعظم اور اڈیالہ جیل کے قیدی عمران خان کے علاج سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان گردش کر رہا ہے جس میں ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں مطلوبہ مہارت، سہولیات یا متعلقہ ماہر دستیاب نہیں، جس کے باعث علاج معیار کے مطابق نہیں ہو رہا۔
تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق یہ تاثر حقائق کے منافی ہے۔ عمران خان کا علاج اسلام آباد کے نامزد سرکاری ٹیئرشیری کیئر اسپتال پمز میں مستند ماہر امراضِ چشم کی نگرانی میں جاری ہے، جہاں معیاری اور عالمی طور پر تسلیم شدہ طبی طریقۂ کار اپنایا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال میں مطلوبہ تشخیصی اور علاجی آلات مکمل طور پر دستیاب ہیں اور مریض کی حالت کے مطابق تمام اقدامات بروقت کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق زیرِ علاج معاملہ امراضِ چشم کے دائرہ کار میں آتا ہے، اور عالمی سطح پر ایسے کیسز کا بنیادی علاج ماہر امراضِ چشم ہی کرتے ہیں۔ ویٹریو ریٹینل سپرا اسپیشلائزیشن ہر کیس میں لازمی شرط نہیں ہوتی، بلکہ ضرورت پڑنے پر اضافی مشاورت لی جاتی ہے۔ اسی تناظر میں پمز انتظامیہ نے اضافی احتیاط کے طور پر الشفا ہسپتال سے ویٹریو ریٹینل کنسلٹنٹ کی معاونت بھی یقینی بنائی، جسے ماہرین اضافی احتیاط اور مریض کے بہترین مفاد میں اقدام قرار دے رہے ہیں، نہ کہ کسی کمی کا اعتراف۔
مزید بتایا گیا ہے کہ یہی ماہر امراضِ چشم تقریباً ایک ماہ قبل ابتدائی انجیکشن بھی دے چکے ہیں جس کے بعد نمایاں بہتری دیکھی گئی تھی۔ اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے فالو اپ علاج کیا گیا، جو کلینیکل تسلسل اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظہر ہے۔ متعلقہ معالج کو اسی نوعیت کے سو سے زائد کامیاب طریقۂ علاج کا تجربہ بھی حاصل ہے۔
سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ پمز اسلام آباد کا ایک مکمل فعال اور جدید سہولیات سے آراستہ سرکاری ٹیئرشیری کیئر اسپتال ہے جہاں وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کی بڑی تعداد تخصصی علاج حاصل کرتی ہے۔ ایسے میں یہ کہنا کہ ادارے میں مطلوبہ صلاحیت یا سہولت موجود نہیں، زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
یاد رہے کہ عمران خان بطور قیدی اڈیالہ جیل میں زیرِ حراست ہیں، اور جیل قواعد و ضوابط کے تحت قیدیوں کا علاج نامزد سرکاری اسپتالوں میں کیا جاتا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قانونی اور سرکاری طریقۂ کار کے تحت علاج فراہم کرے، نہ کہ انفرادی یا نجی انتظامات کے ذریعے۔
ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ چند ہفتے قبل معالج ٹیم نے عمران خان کے ذاتی معالجین کو باضابطہ کانفرنس کال کے ذریعے بریفنگ دی تھی، جس میں کسی سپرا اسپیشلائزیشن کی عدم موجودگی پر اعتراض سامنے نہیں آیا۔ اس پس منظر میں حالیہ عوامی بیانات کو غیر متوقع قرار دیا جا رہا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی معالج کو پیشہ ورانہ تحفظات ہوں تو ان کا مناسب فورم طبی ماہرین کے درمیان براہِ راست رابطہ ہوتا ہے، نہ کہ عوامی سطح پر شکوک و شبہات کو ہوا دینا۔ ان کے مطابق کسی بھی مریض کے علاج کو سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھنا یا اس پر اسکورنگ کرنا مناسب نہیں، خصوصاً جب علاج مستند ماہرین اور مکمل سہولیات کے ساتھ جاری ہو۔
سرکاری مؤقف کے مطابق عمران خان کو معیاری طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، اور اضافی ماہرین کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ مریض کی نگہداشت میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جا رہی۔