سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کے دوران حکومت نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان سمیت تمام قیدیوں کو قانون کے مطابق بروقت اور مکمل طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق جیل انتظامیہ نے طے شدہ ضوابط کے تحت فوری اور مؤثر اقدامات کیے، جبکہ عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹس میں بھی طبی معائنے کی تفصیلات کی تصدیق کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آنکھوں کے علاج کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے “15 فیصد بینائی” کو غیر ضروری طور پر نمایاں کیا گیا، حالانکہ یہ جاری علاج اور بتدریج بہتری کے تناظر میں بتایا گیا تھا۔ گزشتہ روز پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور الشفا انٹرنیشنل کے ماہرینِ امراضِ چشم نے جیل میں تفصیلی معائنہ کیا اور صحت میں نمایاں بہتری کی تصدیق کی۔ حکام کے مطابق مستقل نقصان سے متعلق قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں، جبکہ پارٹی قیادت اور ذاتی معالجین کو بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی جس پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
حکومتی مؤقف کے مطابق چیک اپ کے موقع پر پارٹی قیادت کو مدعو کیا گیا تھا تاہم کوئی نمائندہ شریک نہ ہوا۔ ذرائع نے اسے جماعت کے اندرونی معاملات سے جوڑا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے احتجاجی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سڑکوں کی بندش اور روزمرہ معمولات میں خلل سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس لیے سیاسی جماعتوں کو عوامی خدمت اور گورننس پر توجہ دینی چاہیے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صحت کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے طبی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے اور متعلقہ ادارے قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔