پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کی صحت کو بنیاد بنا کر ملک گیر احتجاج اور اداروں کے خلاف مہم جوئی پر سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ سیاسی مبصرین اور حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ کسی فرد یا وردی کا نہیں بلکہ خالصتاً قانون کی برتری کا ہے، جہاں پی ٹی آئی ‘ایک نہیں، دو پاکستان’ کا ایجنڈا مسلط کرنا چاہتی ہے۔
طبی معائنے کی حقیقت اور تضادات
حکومتی ذرائع کے مطابق بانیٔ پی ٹی آئی کے معائنے کے لیے ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم بنائی گئی، جس میں ان کے اپنے تجویز کردہ ڈاکٹر ندیم قریشی بھی شامل کیے گئے تھے۔ بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے بھی اعتراف کیا کہ ڈاکٹر ندیم قریشی انہیں مسلسل بریف کرتے رہے۔ جب میڈیکل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع ہونی ہے، تو اس کے باوجود پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے بے چینی اور شکوک و شبہات پیدا کرنا محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے۔
عوام دشمن اقدامات اور قیادت
رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنان نے دھرنوں اور سڑکوں کی بندش کے ذریعے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ شفیع جان، مینا خان اور شاہد خٹک جیسے خیبر پختونخوا کے لیڈرز اور ایڈوائزرز کی نگرانی میں ہونے والے ان اقدامات کی وجہ سے ایمبولینسیں رکی رہیں اور مریض دم توڑتے رہے۔ ٹرانسپورٹ کی معطلی نے عام آدمی کو معاشی اور ذہنی طور پر مفلوج کر دیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ احتجاج ‘حقوق’ کے لیے نہیں بلکہ ‘سیاست’ کے لیے ہے۔
ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ
آئی جی خیبر پختونخوا کے حوالے سے پی ٹی آئی کے الزامات کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ آئی جی کو ہدایات پشاور ہائی کورٹ نے جاری کیں، اس کے باوجود فوج کو بیچ میں گھسیٹ کر بیانیہ بنانا عدلیہ پر دباؤ ڈالنے اور من پسند فیصلے حاصل کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
دو ٹوک پیغام
حکومتی موؤف واضح ہے کہ صحت کے نام پر سیاست کی قیمت اب عام پاکستانی ادا نہیں کرے گا۔ قانون کی پاسداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور جذباتی نعروں یا سڑکوں کی بندش کے ذریعے ریاست کو یرغمال بنانے کی کوئی گنجائش نہیں۔
دیکھیے: شخصیت پرستی نے سیاسی جماعت کو ریاست مخالف گروہ میں بدل دیا