صحافی مہر بخاری کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہو گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو منتقل کرنے کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں خصوصی تیاریاں جاری ہیں۔ زمینی حقائق نے اس خبر کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا ہے۔
پاکستان کنیکٹ کے نمائندے نے ہسپتال میں خود موجود رہ کر صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وہاں ایسی کوئی غیر معمولی سرگرمی یا ہنگامی انتظامات دیکھنے میں نہیں آئے۔ اسپتال میں معمول کا نظام چل رہا ہے۔
مہر بخاری نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ہسپتال کے تہہ خانے میں بڑے پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس دعوے کے مطابق وہاں دو الگ میڈیکل رومز، میڈیا روم اور نیا سکیورٹی نظام قائم کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بات بھی کہی گئی تھی کہ عملے اور مریضوں پر سخت پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ مزید یہ کہا گیا کہ ایس او پیز میں تبدیلیوں سے انتظامیہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔
زمینی حقائق
موقع پر موجود صحافتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ہسپتال میں ان دعوؤں کے برعکس ماحول بالکل پرسکون ہے۔ نہ تو کسی حصے کو سیل کیا گیا ہے اور نہ ہی وہاں کوئی اضافی سکیورٹی تعینات ہے۔
میڈیا نمائندگان کے مطابق غیر مصدقہ ذرائع کی بنیاد پر ایسی خبریں پھیلائی گئیں۔ مریضوں اور تیمارداروں کے لیے تمام شعبے روزمرہ کی طرح کھلے ہیں۔ لہٰذا عمران خان کی منتقلی اور خصوصی پروٹوکول سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔