نئی دہلی: بھارت نے واضح کیا ہے کہ روسی خام تیل کی خریداری کے لیے اسے امریکا یا کسی اور ملک کی اجازت درکار نہیں اور روس بدستور بھارت کا سب سے بڑا خام تیل سپلائر ہے۔
بھارتی حکومت کے پریس انفارمیشن بیورو کے مطابق نئی دہلی روسی تیل کی خریداری کسی ’’عارضی رعایت‘‘ پر انحصار کیے بغیر کر رہا ہے اور فروری 2026 تک روس سے تیل کی درآمد جاری رہی۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی توانائی پالیسی قومی مفاد کے تحت طے کی جاتی ہے اور اس کے لیے کسی بیرونی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے روس پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کرتے ہوئے ان روسی آئل ٹینکرز میں موجود خام تیل بھارت کو فروخت کرنے کی اجازت دی تھی جو مارچ 2026 تک سمندر میں لوڈ ہو چکے تھے مگر پابندیوں کی وجہ سے رکے ہوئے تھے۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق حالیہ فوجی کارروائیوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر صرف ایک روز میں خام تیل کی قیمت میں تقریباً 8.5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ہفتے بھر میں قیمتوں میں قریب 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بھارتی حکومت کے مطابق ملک کے پاس 250 ملین بیرل سے زائد خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ موجود ہے جو قلیل مدتی سپلائی رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے کافی ہے، تاہم حکومت نے گھریلو استعمال کے ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں تقریباً 7 فیصد اضافہ بھی کر دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بھارت دنیا میں ایل پی جی خریدنے والا دوسرا بڑا ملک ہے اور اس کی 90 فیصد سے زیادہ درآمدات مشرقِ وسطیٰ سے آتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق توانائی کی ضروریات اور رعایتی قیمتوں کی وجہ سے بھارت اور روس کے درمیان تیل کی تجارت گزشتہ برسوں میں مزید مضبوط ہوئی ہے۔
دیکھئیے:بھارت میں ناقص شہری سہولیات کا انوکھا منظر، کیانو ریوز کی ’یورین‘ سے بھری بوتل مداح اٹھا لے گیا