بھارت اور افغان طالبان کے درمیان پسِ پردہ ہمدردی اور پاکستان مخالف سوچ ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ایک معروف بھارتی پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بھارتی ٹریول انفلوئنسر انکیتا کمار نے اپنے دورہ افغانستان کے چونکا دینے والے احوال بیان کیے ہیں۔
خاتون کے مطابق افغانستان کے دور دراز علاقوں میں سفر کے دوران ان کی ملاقات متعدد مسلح طالبان اہلکاروں سے ہوئی۔ ایک مقام پر 15 مسلح جنگجوؤں کے ہمراہ انہوں نے باقاعدہ نشست کی اور وہاں چائے کے دوران باہمی گفتگو کا تبادلہ ہوا۔
خاتون نے انکشاف کیا کہ طالبان اہلکاروں نے جیو پولیٹکس پر بات کرتے ہوئے کھل کر پاکستان مخالف جذبات کا اظہار کیا۔ ان کے بقول، طالبان جنگجوؤں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کر کے کہا کہ بھارت انہیں میزائل فراہم کرے تاکہ وہ پاکستان کو نشانہ بنا سکیں۔
انٹرویو کے دوران بتایا گیا کہ طالبان جنگجوؤں کو خاتون کے غیر مسلم یا بھارتی ہونے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اس کے برعکس، مسلح اہلکاروں نے انڈیا افغان بھائی بھائی کے نعرے لگائے اور بھارتی شہریوں کے لیے غیر معمولی گرمجوشی کا مظاہرہ کیا۔
خاتون نے یہ بھی بتایا کہ تاریخی مقام منارِ جام جاتے ہوئے دریا عبور کرنے کے لیے طالبان نے ان کی مکمل معاونت کی۔ مسلح کمانڈر خود ایک دیسی زپ لائن کے ذریعے ہتھیاروں سمیت ان کے ساتھ دریا پار کر کے ان کی حفاظت اور رہنمائی کرتے رہے۔
ان بیانات نے خطے میں بھارت اور طالبان کے گٹھ جوڑ پر اٹھنے والے سوالات کو مزید تقویت دی ہے۔ سفارتی اور دفاعی ماہرین کے مطابق، افغانستان میں طالبان عناصر کا بھارتی شہریوں کے ساتھ یہ برتاؤ اور پاکستان مخالف گفتگو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔