خطے میں بھارت کی روایتی اجارہ داری کو بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں نیپال نے پہلی بار حکومت سازی کے بعد فوراً دہلی کا روایتی دورہ کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ کی سردمہری سے پذیرائی کے بعد اب بھارتی آرمی چیف نیپالی وزیراعظم کو بھارت کے دورے پر آمادہ کرنے کے لیے کاٹھمنڈو کا رخ کر رہے ہیں، جسے سفارتی حلقوں میں بھارت کے لیے شدید خفت اور سبقت کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم، اس دورے نے نیپال میں بالیندر شاہ کی حکومت کے قیام کے بعد بھارتی سفارتی صفوں میں موجود بے چینی اور سفارتی کمزوری کو عیاں کر دیا ہے۔ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ نیپال کے کسی وزیر اعظم نے حکومت سنبھالنے کے فوراً بعد روایتی طور پر نئی دہلی کا پہلا دورہ کرنے سے صاف گریز کیا ہے۔ بھارت نے 29 جولائی کو بالیندر شاہ کو دورے کی باضابطہ دعوت دی تھی، مگر نیپال نے تاریخیں طے کرنے میں کوئی جلدی نہیں دکھائی۔
نیپالی وزیر اعظم کو بھارت کا دورہ کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے بھارتی وزارت خارجہ کو نیپالی وزارت دفاع کے ذریعے اپنے آرمی چیف اور بالیندر شاہ کے درمیان ملاقات کی التجا کرنا پڑی۔ اس سے قبل بھارتی خارجہ سیکریٹری وکرم مصری کا دورہ بھی نیپال کی جانب سے اختیار کردہ سخت پروٹوکول اور سرد مہری کے باعث مؤخر ہو چکا تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ نیپال اب نئی دہلی کے اثر و رسوخ کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
دفاعی حلقوں کے مطابق خود کو جنوبی ایشیا کا بڑا بھائی سمجھنے والے بھارت کے لیے یہ انتہائی شرمناک صورتحال ہے۔ بھارت اب اپنے ہی ہمسائے سے احترام اور تعامل حاصل کرنے کے لیے ان کے دروازوں پر سفارتی کوششیں اور التجا کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔
سوشل میڈیا اور عالمی حلقوں میں جنرل سیٹھ کے دورے کو بھارت کی سفارتی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور نیپال کے سامنے نئی دہلی کی بے بسی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔