بین الاقوامی تعلقات کے منظر نامے پر پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی بڑھتی ہوئی قربت سے خائف دشمن عناصر نے ایک بار پھر منظم پراپیگنڈے کا سہارا لیا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے سینیٹر مشاہد حسین سید کے متحدہ عرب امارات سے متعلق ریمارکس کو دانستہ طور پر توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس کا مقصد دونوں برادر ممالک کے مابین مصنوعی خلیج اور بداعتمادی پیدا کرنا ہے۔
رہورٹ کے مطابق بھارتی اکاؤنٹس کی جانب سے دنیا نیوز کے ایک ٹاک شو میں مشاہد حسین سید کے مخلصانہ اور ہمدردانہ ریمارکس کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بددیانتی پر مبنی تحریف درحقیقت اسی خطرے کی عملی عکاسی ہے جس سے مشاہد حسین نے پہلے ہی متحدہ عرب امارات کو خبردار کیا تھا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ بھارتی پراپیگنڈا نیٹ ورکس پاکستان اور خلیجی شراکت داروں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔
مسلم ممالک کے مابین قرابت کی سازش
علاقائی صورتحال کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ مسلم ممالک کے تعلقات خراب کرنے کے لیے ایک مربوط و منظم بیانیہ سامنے لایا جا رہا ہے۔ اماراتی بھائیوں کو ان عناصر سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے جو سفارتی لبادے میں تفرقہ ڈالنے کے درپے ہیں۔ عرب بھائیوں کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ بھارتی لابی صیہونی ریاست کے کس قدر قریب ہے؛ یہ عناصر نہ تو پاکستانیوں کے خیر خواہ ہیں، نہ ایرانیوں کے اور نہ ہی عربوں کے، بلکہ ان کا اصل ایجنڈا مسلم ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔
تزویراتی اہمیت
یہ معاندانہ مہمات درحقیقت پاک امارات برادرانہ تعلقات کے خلاف دیرینہ بغض کا اظہار ہیں۔ دشمن کی جانب سے کی جانے والی یہ کوششیں جان بوجھ کر تقسیم پیدا کرنے کی سازشوں کو بے نقاب کر رہی ہیں۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کی بنیادیں اتنی گہری ہیں کہ دشمن کے پراپیگنڈا سیلز ان میں دراڑ ڈالنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔
آزمائش کی اس گھڑی میں مسلم امہ کے درمیان اتحاد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ دشمن عناصر، جو مسلم بھائیوں کے تعلقات میں زہر گھولنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے ناپاک پروپیگنڈے کو حقائق کے ادراک اور سفارتی فراست سے مسترد کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی تزویراتی شراکت داری ایک ایسی حقیقت ہے جسے دشمن کی کوئی بھی سازش متزلزل نہیں کر سکتی۔