بھارت کی جانب سے پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر ‘سندھ طاس معاہدہ’ کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور غیر مصدقہ الزامات پر مبنی ہے۔

April 20, 2026

افغانستان کی اسلامی وحدت پارٹی کے سربراہ محمد محقق نے ڈیورنڈ لائن کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان باضابطہ بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

April 20, 2026

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پاکستان کو سفارتی عمل میں واحد باضابطہ ثالث قرار دیتے ہوئے خطے میں اسلام آباد کے کلیدی کردار کی تصدیق کی ہے۔

April 20, 2026

امریکی جریدے ‘دی ہل’ میں برہما چیلانی کے مضمون کو حقائق مسخ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے ماہرین نے ’نیوکلیئر اسلامزم‘ کے بیانیے اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے مغربی دوہرے معیار کو مسترد کر دیا ہے۔

April 20, 2026

افغانستان کے صوبہ نیمروز میں مبینہ پاکستانی ڈرون حملے کی اطلاعات، طالبان حکام کی جانب سے ڈرون پر فائرنگ اور ایک گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

April 20, 2026

بنوں میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی؛ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنہ الخوارج کا اہم رنگ لیڈر وحید اللہ عرف مختار خودکش بمبار سمیت ہلاک، لیفٹیننٹ کرنل گل فراز کی شہادت میں ملوث ماسٹر مائنڈ انجام کو پہنچ گیا۔

April 20, 2026

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، افغان شہری سمیت ٹی ٹی پی کے 4 دہشت گرد ہلاک

ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی کے 4 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں افغانستان کے صوبہ لوگر کا رہائشی قاری عزیر بھی شامل ہے
ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی کے 4 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں افغانستان کے صوبہ لوگر کا رہائشی قاری عزیر بھی شامل ہے

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن؛ افغان صوبہ لوگر سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد عزت اللہ عرف قاری عزیر سمیت ٹی ٹی پی کے 4 شرپسند ہلاک

April 7, 2026

سکیورٹی فورسز نے ضلع باجوڑ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک مؤثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا ہے، جس کے نتیجے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے چار خطرناک دہشت گرد مارے گئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن 4 اپریل کو انتہائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا، جس کا مقصد علاقے کو دہشت گردی سے پاک محفوظ رکھنا تھا۔

افغان شہری؟

سکیورٹی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے چار دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت ‘عزت اللہ عرف قاری عزیر’ کے نام سے ہوئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ قاری عزیر کا تعلق افغانستان کے صوبہ ‘لوگر’ سے تھا، جو سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے داخل ہوا تھا۔ بقیہ تین دہشت گردوں کی شناخت کے لیے عمل جاری ہے تاکہ ان کے نیٹ ورکس اور پس منظر کا پتا لگایا جا سکے۔

بیرونی مداخلت کے شواہد

دہشت گردوں میں افغان شہری کی موجودگی ایک بار پھر ان خدشات کو تقویت دیتی ہے کہ کالعدم تنظیمیں پڑوسی ملک کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں ہونے والا یہ کامیاب آپریشن دہشت گردوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے اور اس سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال مزید مستحکم ہوگی۔

سکیورٹی فورسز کا عزم

آپریشن کے بعد علاقے میں کلیئرنس کی کاروائی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ کسی بھی دوسرے شرپسند کی موجودگی کے امکان کو ختم کیا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وطنِ عزیز کی سرحدوں کا دفاع اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ان کی اولین ترجیح ہے اور شرپسند عناصر کو کسی بھی صورت سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دیکھیے: کابل حملے میں شہری مرکز کو نہیں ڈرون فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان نے متضاد دعوے مسترد کر دئیے

متعلقہ مضامین

بھارت کی جانب سے پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر ‘سندھ طاس معاہدہ’ کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور غیر مصدقہ الزامات پر مبنی ہے۔

April 20, 2026

افغانستان کی اسلامی وحدت پارٹی کے سربراہ محمد محقق نے ڈیورنڈ لائن کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان باضابطہ بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

April 20, 2026

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پاکستان کو سفارتی عمل میں واحد باضابطہ ثالث قرار دیتے ہوئے خطے میں اسلام آباد کے کلیدی کردار کی تصدیق کی ہے۔

April 20, 2026

امریکی جریدے ‘دی ہل’ میں برہما چیلانی کے مضمون کو حقائق مسخ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے ماہرین نے ’نیوکلیئر اسلامزم‘ کے بیانیے اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے مغربی دوہرے معیار کو مسترد کر دیا ہے۔

April 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *