پاکستان نے مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے حالیہ دھاوے اور وہاں قابض طاقت کا جھنڈا لہرانے کے اشتعال انگیز واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ اس مقدس مقام کی حرمت پر بھی براہِ راست حملہ ہیں۔
مقدس مقام کی حرمت
دفترِ خارجہ کے مطابق مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی آباد کاروں کا زبردستی داخلہ اور وہاں جھنڈا لہرانا ایک سوچی سمجھی اشتعال انگیزی ہے، جس کا مقصد فلسطینیوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اور خطے میں کشیدگی کو ہوا دینا ہے۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ قابض طاقت کے ایسے اقدامات سے مشرقِ وسطیٰ میں امن و امان کی صورتحال مزید ابتر ہونے کا خدشہ ہے۔
🔊PR No.1️⃣0️⃣4️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) April 21, 2026
Pakistan Condemns Violation of Al-Aqsa Mosque Compound
🔗⬇️ pic.twitter.com/f0JxJyV6Q9
عالمی برادری سے اپیل
حکومتِ پاکستان نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی قبضے میں موجود اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو اس کے غیر قانونی اقدامات پر جوابدہ ٹھہرایا جائے اور انتہا پسند آباد کاروں کی پشت پناہی کا سلسلہ فوری طور پر بند کرایا جائے۔
پاکستان کا اصولی مؤقف اور یکجہتی
ترجمان دفتر خارجہ نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک آزاد، خود مختار اور جغرافیائی طور پر جڑی ہوئی فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایسی ریاست کے قیام کے لیے کوششیں تیز کرے جس کا دارالحکومت ‘القدس الشریف’ ہو۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل اور فلسطینیوں کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی میں پنہاں ہے، اور جب تک قابض طاقت کی جبریت ختم نہیں ہوتی، امن کی کوششیں ثمر آور نہیں ہو سکتیں۔