وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ان دعوؤں کو یکسر مسترد اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے جس میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں کارروائی کا تذکرہ کیا گیا تھا۔
افغان طالبان اپنے مختلف پراپیگنڈا ذرائع اور سرکاری بیانات کے ذریعے یہ گمراہ کن دعویٰ کر رہے تھے کہ انہوں نے پاکستانی حدود میں مبینہ طور پر داعش خراسان کے بعض ٹھکانوں کو سادہ نوعیت کے ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ وزارتِ اطلاعات نے فیکٹ چیک جاری کرتے ہوئے ان تمام بیانات کو حقیقت کے برعکس قرار دیا ہے۔
افغانستان میں دہشت گرد تنظیمیں
وزارتِ اطلاعات کے مطابق اصل حقیقت یہ ہے کہ داعش سمیت دو درجن سے زائد دہشت گرد تنظیموں کے محفوظ ٹھکانے خود افغان طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں موجود ہیں، جہاں سے نہ صرف ان کی مکمل سرپرستی کی جا رہی ہے بلکہ وہیں سے پاکستان سمیت دیگر مقامات پر کارروائیاں بھی کی جاتی ہیں۔
*𝐅𝐚𝐜𝐭 𝐂𝐡𝐞𝐜𝐤 | 𝐌𝐢𝐧𝐢𝐬𝐭𝐫𝐲 𝐨𝐟 𝐈𝐧𝐟𝐨𝐫𝐦𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 & 𝐁𝐫𝐨𝐚𝐝𝐜𝐚𝐬𝐭𝐢𝐧𝐠*
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) June 19, 2026
◼️The Afghan Taliban regime through their various propaganda mouthpieces and official statements are claiming to have targeted some alleged ISKP camps in border areas of Khyber… pic.twitter.com/xyzutM6O3A
سرکاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ہمسایہ ممالک اور پورے خطے میں دہشت گردی کی سرپرستی، بشمول داعش، ایف اے کے، ایف اے ایچ اور دیگر مسلح گروہوں کی سرگرمیوں سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے طالبان حکومت اس نوعیت کے گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی بیانات جاری کر رہی ہے۔
افغان ڈرون تباہ
حقیقی صورتحال اور فیکٹ شیئر کرتے ہوئے وزارتِ اطلاعات نے بتایا کہ افغان طالبان حکومت کا ایک سادہ نوعیت کا ڈرون خیبر کے سرحدی علاقے شینکو کے قریب پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔ پاک فضائیہ کے مستعد اور جدید فضائی دفاعی نظام نے اس فضائی خلاف ورزی کو فوری طور پر شناخت کیا اور ڈرون کو فضا میں ہی مؤثر طریقے سے ناکارہ بنا دیا۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس کارروائی اور تباہ شدہ ڈرون کی باقاعدہ تصویر بھی ثبوت کے طور پر جاری کر دی گئی ہے، جس نے طالبان کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے کیونکہ حقیقت ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتی ہے۔
دیکھیے: ڈی آئی خان: پولیس کی بروقت کاروائی، چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام