تہران/بیروت: ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک دی ہے، جسے امریکا کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس اقدام کو لبنان میں اسرائیلی حملوں کے ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی خبررساں ادارے فارس نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان پر اسرائیل کے شدید حملوں کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کی آمدورفت کو روک دیا گیا۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد محدود پیمانے پر چند جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ایران نے دوبارہ سخت کنٹرول نافذ کر دیا۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق اسرائیل نے لبنان میں جنگ کے دوران اب تک کے شدید ترین حملے کیے، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جبکہ ایران نے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی سپلائی اور معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ اقدام واضح پیغام ہے کہ اگر لبنان میں حملے جاری رہے تو نہ صرف جنگ بندی متاثر ہوگی بلکہ خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدید تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ لبنان کی صورتحال جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں، جس سے فریقین کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں جنگ بندی کا مستقبل غیر یقینی ہو چکا ہے، اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی سطح پر ایک نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔