امریکہ نے ایک دفعہ پھر مذاکرات کی آڑ میں ایران پر حملہ کر کے ثابت کر دیا ہے کہ اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ حملہ جون 2025 کا دوبارہ منظرِ عام پر آنا محسوس ہوتا ہے، جس میں ایران درجنوں عسکری کمانڈروں سمیت ایٹمی سائنس دانوں سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس دفعہ بھی امریکہ و اسرائیل نے اسی طریقہ کار کو اپنایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ محض چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اندر سپریم لیڈر سمیت 49 اہم ترین ایرانی عسکری شخصیات کو قتل کر دیا گیا۔
اس کے علاوہ ایک نیول بیس سمیت 9 بحری جہاز تباہ ہوئے اور سینکڑوں شہری بھی جاں بحق ہوئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اب تک دشمنوں نے 131 شہروں پر بمباری کی ہے۔ ان دونوں جنگوں میں ایرانی رجیم کی دو بنیادی کمزوریاں کھل کر سامنے آئی۔ ایرانی عسکری انٹیلی جنس اور سیاسی حلقوں میں “موسا د” کا اثر ورسوخ اس حد تک بڑھ چکا ہے جو ایرانی رجیم کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ محض ایک واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خامنہ کی ڈیڈ باڈی کی تصویر فی الفور اسرائیلی وزیر اعظم تک پہنچا دی گئی یہی وجہ تھی کہ نیتن یاہیو بڑے یقین سے کئی گھنٹے قبل کہہ رہا تھا کہ خامنہ ای اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ دوسرافضائی قوت کی شدید کمی اور زمینی فاصلہ۔ ایرانی اسٹیک ہولڈروں کو زمینی حقائق کا ادراک ہونا چاہیے تھا کہ جنگیں خالی خولی نعروں سے نہیں بلکہ بھرپور انٹیلی جنس ورک اور اسٹریٹجک تیاری سے لڑی جاتی ہیں۔ ایران کی ان دونوں کمزورویوں کا دشمنوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔
مندرجہ بالا سارے منظر نامے سے نیتن یاہیو کا ایک بیان ذہن میں آ گیا۔ حالات کے تحت جسے قارئین تک پہنچانا ضروری ہے۔ ستمبر 2024 کو حسن نصر اللہ اور ان کی عسکری کابینہ کے المناک واقعہ کے چند روز بعد نیتن یاہیونے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بھی علاقہ اسرائیل کی پہنچ سے دور نہیں ہے جہاں ہم نہیں پہنچ سکتے۔ افسوس ایرانی رجیم نے نیتن ہایو کے اس بیان کو اہمیت نہ دی۔ بہرحال یہ دجالی بیان پاکستان کے اسٹیک ہولڈروں کے لیے بھی ایک الارمنگ ہے ۔ کہ ملکی سلامتی پر کوئی کمپرومائز نہیں۔ چاہیے وہ عناصرمالی، عسکری، سیاسی، میڈیائی یا پھر مذہبی طور پر کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو؟
دوسری جانب امریکہ و اسرائیل کو یہ توقع ہر گز نہیں تھی کہ ایران اتنا شدید ردعمل دے سکتا ہے۔ قطر وبحرین میں ملٹری اور نیول بیس کی تباہی، ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملہ، دبئی میں المنہاد ائیر بیس پر ہلاکتیں، اسرائیل میں پاور پلانٹ، منسٹر انکلیوو عمارات کی تباہی اور کئی اسرائیلیوں و امریکیوں کی ہلاکتوں نے ٹرمپ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے ہنگامی بنیادوں پر خطے کے 14 ممالک سے اپنے شہریوں کو نکل جانے کا کہہ دیا ہے ۔ اور ساتھ ہی ٹرمپ نے ایران کو سخت حملوں کا سامنا کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ جس کی آنے والے چند گھنٹوں میں توقع کی جارہی ہے۔ ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ بوکھلایا ہوا ٹرمپ کوئی خطرناک قدم اٹھانے جارہا ہے۔ دشمن اگر طاقتور ہو تواس کو فوری اور جارحانہ جواب نہیں دیا جاتا۔
کیونکہ اس صورت میں یہ بہت بڑے نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں ایرانی رجیم صرف ایک صورت میں اپنی بقاء کی جنگ لڑ سکتی ہے کہ جنگ کو طول دے کر اسرائیلی اہداف کو گاہے بگاہے نشانہ بناتی رہے ۔ جس سے دشمن فوری طور پر جارحانہ ردعمل بھی نہ دے۔ جیسے سابقہ افغان طالبان نے اپنے اتحادیوں کی مدد سے ایک صبر آزما لمبی جنگ لڑی۔ یہ الگ بات ہے کہ افغان طالبان نے پاکستان کے ساتھ انتہا کی احسان فراموشی کی اور اعتماد کو شدید مجروع کیا۔ اس کے لیئے ضروری ہے کہ اسرائیلی و امریکی فورسز کو ایران و عراقی سرزمین پر اترنے پر مجبور کر دیا جائے۔ جس کے فی الحال آثار نظر نہیں آرہے۔ ایرانی رجیم کوایک زمینی حقیقت ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے کہ امریکہ کی سب سے بڑی کمزوری اسرائیل کی سلامتی ہے اور دورانِ جنگ ہزاروں کلومیٹر دور سے بغیر کسی رکاوٹ کے اسلحہ کی سپلائی۔ بہرحال جنگ کے خدوخال ابھی تک واضح نہیں کہ کس کروٹ بیٹھے گی اور کتنے دن و کتنی شدت سے جاری رہے گی؟
باقی رہا مسئلہ ایرانی رجیم چینج کا تو راقم کا جون 2025کی جنگ کے موقع پر یہی مؤقف تھا اور آج بھی یہی مؤقف ہے کہ رجیم چینج امریکہ کی ترجیحات میں کبھی شامل نہیں رہا۔ کیونکہ انقلابی رجیم امریکہ کے لیے ایسا ترپ کا پتہ ہے جس کی بنیاد پر وہ عربوں کو 47 سالوں سے بلیک میل کرتا چلا آرہا ہے ۔ تاوقتیکہ نئی رجیم خطے میں امریکی و اسرائیلی مفادات کی سو فیصد گارنٹی نہیں دے دیتی۔ بالفرض باامرمجبوری نئی رجیم آبھی جاتی ہے تو وہ مخلوط رجیم ہو گئی۔ موجودہ ایرانی سیاسی سیٹ اپ میں اعتدال پسندوں اور رضا شاہ پہلوی پر مشتمل حکومت بنائی جائے گی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس وقت ایرانی رجیم اپنے انقلاب کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے اور اس سے قبل وہ کبھی اتنی کمزور نہیں تھی جتنی آج ہے تمام تر مخدوش حالات کے باوجود اگر ایرانی رجیم بچ جاتی ہے تو یہ اس کی کامیابی ہو گی۔ جسے بین الاقوامی تجزیہ کار بھی اسے امریکہ کی شکست سے تعبیر کریں گے۔ خطے میں جاری مفادات کی جنگ اتنی جلدی اور آسانی سے بند ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہی کیونکہ دونوں فریقوں کی ساکھ دائو پر لگ چکی ہے کہ کسی ایک کی شکست خطے سے مکمل دستبرداری یعنی موت کے مترادف ہو گا ۔
ایرانی رجیم کی جانب سے عرب شہروں پر میزائل اور ڈرونز حملوں کے نتیجے میں بہت سے غیر ملکی شہید اور بیسیوں زخمی بھی ہوئے ۔ ایرانی رجیم کے اس غیر ضروری فعل کی ترکی ، پاکستان ورابطہ اسلامی سمیت بہت سے اسلامی ممالک نے کھل کر مذمت کی ہے۔ ایرانی رجیم جو پہلے ہی بین الاقوامی سیاسی و سفارتی تنہائی کا شکار ہے۔ ایسے حساس موقع پر ایسے غیر ذمہ دارافعال کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ عقل مندی کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اپنے اصلی ہدف ” اسرائیل و امریکہ ” کونشانے پر رکھے تاکہ مسلم دنیا کی ہمدردیاں حاصل کی جا سکیں۔ دونوں جانب سے کچھ ایسے خفیہ ہاتھ ہیں جو جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ خلیجی ممالک نہ چاہتے ہوئے بھی اس جنگ میں براہ راست ملوث ہو جائیں۔
جیسے آپریشن طوفان الاقصیٰ کے دوران پاکستان میں بعض عناصر نے سوش میڈیا میں طوفانِ بدتمیزی پیدا کر دی۔ عوام کے جذبات کو اشتعال دلانے کے لیے ہر ہتھکنڈے استعمال کیئے گئے کہ کسی طرح پاکستان کو غزہ جنگ میں ملوث کیا جائے۔ لیکن پاک اسٹیبلشمنٹ کی درورس نگاہوں نے بھانپ لیا تھا کہ یہ پاکستان کو پھنسانے کی ہولناک سازش ہے ۔ تبھی راقم نے اس وقت دو باتیں کہیں تھیں۔ نمبر ایک آپریشن طوفان الاقصیٰ ایک بہانہ ہے، شام ٹھکانہ اور پاکستان والحرمین شریفین نشانہ ہے، خیال رہے کہ غزہ شام کا ہی حصہ ہے۔ نمبر دو دوسری بات جس پر راقم آج بھی اپنے مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے کہ آپریشن طوفان الاقصیٰ میں حماس قیادت کو استعمال کیا گیا تھا جس کی قیمت آج تک غزہ کے معصوم اور بے گناہ معصوم ادا کر رہے ہیں۔
موجودہ سنگین حالات میں بدقسمتی سے پاکستان میں ایک مخصوص لابی حقائق کاسامنا کرنے کی بجائے سعودی عرب سمیت عرب ممالک کے خلاف پراپیگنڈہ کر کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے بھی زہر قاتل ہے۔ جس سے شیعہ سنی تفریق بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں و سائبر سکیورٹی کو اس حوالے سے سنجیدہ قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس جنگ کے دوران عربوں کو ایک زمینی سچائی کی سمجھ آگئی ہے کہ امریکہ پر کسی طرح بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ تو خود عدمِ تحفظ کا شکار ہے۔ جس کی تمام تر جدوجہد کا مقصد ہی صہیونی ریاست اسرائیل کا تحفظ ہے ۔ چاہیے اس کے لیے پوری امریکی قوم کو ہی کیوں نہ مروانا پڑھے۔ بصیرت والوں کے لیے یہ جنگ ” ومکروا ومکراللہ واللہ خیر الماکرین ” کی بہترین عملی تفسیر ہے۔