ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اندرونی اتحاد کے ساتھ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد سے ایران کو موجودہ مسائل پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی اثنا کے مطابق مسعود پزشکیان نے کہا کہ حکومت کا ماننا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد سے ملک کو درپیش مشکلات کم کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس یادداشت پر عملدرآمد سے امریکا اور اسرائیل کو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے سے روکا جا سکتا ہے، جبکہ خطے کے ممالک اتحاد اور تعاون کے ذریعے استحکام اور ترقی کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔
ایرانی صدر نے تہران کی جانب سے متحد سیاسی مؤقف اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے تینوں شعبوں کے سربراہان اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی بہتر ہوئی ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔ کوئی طاقت ایرانی قوم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی اور نہ ہی جنگ کا خواہاں ہے، تاہم تہران دھمکیوں اور دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ ایرانی قوم اپنے دفاع اور قومی خودمختاری کے تحفظ کیلئے متحد ہے۔
ایرانی صدر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کیلئے مؤثر کردار ادا کیا جائے۔
پزشکیان نے یہ بھی تسلیم کیا کہ امریکی پابندیاں ایرانی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کی صورتحال میں ہے اور اسے ان حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔