ایران نے امریکا کو واضح خبردار کیا ہے کہ رہبر اعلیٰ آیت اللٰہ علی خامنہ ای پر کسی بھی حملے کو وہ پوری جنگ کا سبب سمجھے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کسی بھی ناانصافی پر مبنی جارحیت کا سخت اور افسوسناک جواب دے گا۔
انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر پر حملہ دراصل ایران کے خلاف ہمہ گیر جنگ کا اعلان ہوگا۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے ایران میں مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیوں اور ممکنہ پھانسیوں پر سختی سے خبردار کیا تھا۔
ٹرمپ نے ہفتے کو پولیٹیکو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ “ایران میں نئی قیادت لانے کا وقت آ گیا ہے”، جس پر ایرانی قیادت نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
علاوہ ازیں، ایرانی صدر نے ملک میں جاری معاشی بحران کا ذمہ دار امریکا اور اس کے اتحادیوں کو قرار دیا اور کہا کہ طویل عرصے سے جاری پابندیاں اور دشمنی نے ایرانی عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
خامنہ ای کا خطاب
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ حالیہ مظاہروں میں ہونے والی کئی ہزار ہلاکتوں اور مالی نقصان کے اصل ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر نےفتنہ پرستوں کی کمر توڑنے کا حکم دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مظاہروں کے پیچھے براہ راست امریکی صدر ملوث ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ہلاکتوں، مالی نقصان اور عوام کے خلاف پروپیگنڈے کے اصل ذمہ دار خود امریکی صدر ہیں۔ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ حالیہ ایران مخالف بغاوت اس لحاظ سے مختلف تھی کہ اس میں امریکی صدر ذاتی طور پر ملوث تھا۔
دیکھیں: پاکستان کا اقوام متحدہ میں ایران کی صورتحال پر تشویش کا اظہار، پُرامن حل اور مذاکرات پر زور