ترکیہ نے ایران کے جوہری مسئلے پر مغربی دباؤ کی حکمت عملی کے خلاف ایک واضح اور سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ وزیرِ خارجہ حاکان فیدان نے ترکیہ میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران ایک پرانا اور پیچیدہ مسئلہ ہے، اسے وینزویلا جیسا نہ بنائیں۔
وزیرِ خارجہ حاکان فیدان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ایران کو دباؤ میں لاتے ہیں تو وہ بدترین صورت حال کے لیے تیاری کرے گا۔ یہ خطے میں اضافی کشیدگی اور عدم استحکام کا باعث بنے گا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ مذاکرات کا طریقۂ کار ایسا ہو جو ایرانی خودداری اور خود مختاری کو مجروح نہ کرے۔
Turkish Foreign Minister Hakan Fidan on Iran:
— Clash Report (@clashreport) January 25, 2026
I would advise my American friends: don’t make this another Venezuela.
Iran is ready to negotiate, but you need to find a way to negotiate in the right way so they do not lose face.
If they feel cornered, they will prepare for the… pic.twitter.com/YLGg2SjSdW
سیاق و سباق
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور یورپی دارالحکومت ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کو بحال کرنے کے لیے کوششیں تیز کر رہے ہیں، ساتھ ہی ایران کی روس کے ساتھ فوجی تعاون اور علاقائی سرگرمیوں پر پابندیاں بھی عائد کر رہے ہیں۔ ترکیہ، جو نیٹو کا رکن ہونے کے باوجود ایران کے ساتھ تجارتی اور توانائی کے گہرے تعلقات رکھتا ہے، اس معاملے میں ایک منفرد ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ترکیہ کے اس بیان کو امریکہ اور یورپی یونین کے لیے ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے کہ وہ ایران کے معاملے میں اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کریں۔ ترکیہ کا مؤقف ہے کہ صرف پابندیاں اور دھمکیاں مسئلے کا حل نہیں ہیں، بلکہ باوقار مذاکرات ہی مستقل استحکام کی کلید ہیں۔
دیکھیں: ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘: اسرائیل اور آذربائیجان شامل، سویڈن نے حصہ بننے سے انکارکر دیا