"> ایران کی جوابی کارروائی، اردن میں امریکی اڈے پر میزائل فائر
سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر

سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا بیانیہ اور حکومتی ریکارڈ بے نقاب

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

ایران کی جوابی کارروائی، اردن میں امریکی اڈے پر میزائل فائر

امریکی حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں امریکی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران کی جوابی کارروائی، اردن میں امریکی اڈے پر میزائل فائر

ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں اردن میں امریکی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔

September 2, 2026

امریکی حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی شروع کردی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں امریکی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اردن میں امریکی میرینز کے اڈے کیمپ ٹِٹن کو بیلسٹک میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی ہے۔

دوسری جانب اردن کی مسلح افواج نے بتایا کہ ایرانی حدود سے 13 بیلسٹک میزائل اردن کی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ اردنی فضائی دفاع نے ان میں سے 10 میزائل مار گرائے، جبکہ 3 میزائل آبادی سے دور غیر آباد علاقوں میں جا گرے۔

اردنی حکام کے مطابق میزائل حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ متاثرہ علاقوں میں خصوصی ٹیمیں بھیج دی گئی ہیں تاکہ میزائلوں کے ملبے اور دیگر نقصانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

ایرانی حکام نے امریکی حملوں کے جواب میں مزید کارروائیوں کا عندیہ بھی دیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب سے متعلق فوجی اہداف پر تازہ فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان حملوں میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار، بحری اثاثے، مواصلاتی مراکز اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت رکھنے والے نظاموں کو نشانہ بنایا گیا۔

دیکھیے: ٹرمپ کی اردن میں کارروائی کے جواب میں ایران پر شدید حملوں کی دھمکی

متعلقہ مضامین

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے تین آپریشنز میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ خضدار میں مسلح افراد نے ماربل فیکٹری سے 18 مزدور اغوا کرلیے۔

October 18, 2026

کسی بھی ریاست کا استحکام اس کے سلامتی کے اداروں اور شہداء کی قربانیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اداروں پر متنازع بیانات ان کی سیاست کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

October 18, 2026

افغان کرنسی کے استحکام پر مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے کا معاشی و سیاسی تجزیہ۔ جانئے کرنسی کی قدر، معاشی ترقی اور جمہوری تضادات کا حقیقت پسندانہ جائزہ۔

October 18, 2026

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

October 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *