تہران: ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی 15 نکاتی تجاویز کا باضابطہ جواب ثالثی ذرائع کے ذریعے بھجوا دیا ہے، جبکہ تہران نے ان تجاویز کو یکطرفہ اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ایران نے گزشتہ رات تجاویز کا جواب بھجوایا اور اب واشنگٹن کے ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ سفارتی عمل بدستور جاری ہے۔
ایک ایرانی اعلیٰ عہدیدار نے برطانوی خبر ایجنسی سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والی امریکی تجاویز کا جائزہ لیا گیا، تاہم یہ تجاویز زیادہ تر امریکا اور اسرائیل کے مفادات کے مطابق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے پاکستان کے ذریعے اپنا مؤقف واضح کیا ہے کہ امریکی تجاویز میں بنیادی اور ضروری تقاضوں کی کمی ہے، اسی وجہ سے موجودہ مرحلے پر کسی باضابطہ مذاکرات کا کوئی واضح منصوبہ سامنے نہیں آیا۔
عہدیدار کے مطابق پاکستان اور ترکیہ دونوں ممالک امریکا اور ایران کے درمیان مشترکہ بنیاد پیدا کرنے کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سفارتکاری کا عمل رکا نہیں ہے، تاہم کسی پیشرفت کیلئے امریکا کو حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکے۔
دیکھئیے:واشنگٹن کے ذریعے پاکستان کا اسرائیل پر دباؤ، ایرانی وزراء ہٹ لسٹ سے خارج: رائٹرز کا انکشاف