امریکی صحافی اور سیاسی مبصر ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دباؤ پر ایران کے خلاف جوہری حملے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ کارلسن کے مطابق ممکنہ حملے کا ہدف وسطی ایران میں واقع زیرِ زمین جوہری تنصیب پکیکس ماؤنٹین ہو سکتی ہے، جبکہ امریکی صدر اس حوالے سے 7 نومبر تک فیصلہ کر سکتے ہیں۔
کارلسن نے 2 نومبر کو ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ نیتن یاہو ایران کے خلاف جوہری حملے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے ایک نامعلوم باخبر ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم اس معاملے پر امریکی صدر سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
جوہری تنصیب ممکنہ ہدف؟
ٹکر کارلسن کے مطابق پکیکس ماؤنٹین کے اندر واقع مبینہ جوہری تنصیبات تقریباً 300 فٹ گہری گرینائٹ چٹانوں کے نیچے موجود ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ امریکی روایتی ہتھیار اس گہرائی میں موجود سرنگوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اس لیے جوہری حملے کا امکان زیرِ غور آ سکتا ہے۔
کارلسن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کے مطابق ایران نے اس مقام پر یورینیم کی افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کے حق میں انہوں نے کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا۔ ایران اس مقام پر جوہری سرگرمیاں جاری ہونے کی تردید کر چکا ہے۔
جوہری حملے کا خدشہ
کارلسن کے یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے بعض باقی ماندہ اہداف کے خلاف دوبارہ کارروائی کا عندیہ دے چکے ہیں۔ یکم نومبر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو ایران میں ایک یا دو مزید مقامات کو نشانہ بنانا ہے اور پکیکس ماؤنٹین بھی ان میں شامل ہو سکتی ہے۔
تاہم ٹرمپ اس سے قبل جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان کو مسترد کر چکے ہیں۔ 15 اکتوبر کو نیوزمیکس کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ روایتی ہتھیاروں سے بھی اپنے اہداف حاصل کر سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ سفارتی حل ممکن ہے اور واشنگٹن اس کے لیے تیار ہے۔ اس لیے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی اور جوہری حملے کے امکان کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔
عالمی اثرات
کارلسن نے خدشہ ظاہر کیا کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے عالمی سطح پر ایک خطرناک مثال قائم ہو سکتی ہے۔ کارلسن نے روس، یوکرین، پاکستان، بھارت اور شمالی کوریا کے درمیان ممکنہ جوہری کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا اقدام عالمی تنازع کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔
کارلسن نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دونوں ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاہدہ کرنے کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ فی الحال مختلف آرا سن رہے ہیں اور 7 نومبر تک فیصلہ کر سکتے ہیں۔





