نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین مسلم امہ کے اجتماعی شعور میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کے معاہدوں کی روزانہ بنیاد پر خلاف ورزی کر رہا ہے۔ مقبوضہ علاقوں میں انسانی بحران سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔
او آئی سی کی چھ رکنی فلسطین کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فلسطینی عوام کے لیے بھرپور سیاسی اور سفارتی حمایت متحرک کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور بالخصوص غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر عالمی برادری کی فوری توجہ درکار ہے۔
غزہ کے لیے سفارتی کوششیں
اسحاق ڈار نے غزہ تنازع کے پرامن حل کے لیے امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی سفارتی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور غزہ امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کا پرزور حامی ہے۔
انہوں نے دو ٹوک مؤقف اپنایا کہ جنگ کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو اور تمام انتظامی امور کا اختیار صرف فلسطینی قیادت کے پاس ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی مسلسل پامالی پر اسرائیل کا احتساب ناگزیر ہے۔
مغربی کنارے آباد کاری
نائب وزیراعظم نے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور آباد کاروں کے پرتشدد اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ یکطرفہ پالیسیاں فلسطینی سرزمین کی جغرافیائی سالمیت کے لیے مستقل خطرہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات مستقبل میں ایک آزاد اور پائیدار فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو براہِ راست نقصان پہنچا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر شروع ہونے والے حالیہ سفارتی عمل کو درپیش خطرات سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مسجدِ اقصیٰ کی حیثیت
اسحاق ڈار نے مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی آباد کاروں کی دراندازی اور تقدس کی پامالی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے باور کرایا کہ یہ کارروائیاں اقوام متحدہ کی قراردادوں اور تاریخی و قانونی اسٹیٹس کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ عالمی سطح پر اپنا فعال کردار جاری رکھے۔ ایک بااعتماد اور شفاف سیاسی عمل کے ذریعے 1967 کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔