نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے چار فریقی مشاورتی اجلاس کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور قیامِ امن کے لیے مشترکہ کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور اس کے نتیجے میں صرف تباہی اور جانی نقصان ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے کا پہلا اجلاس 19 مارچ کو ریاض میں منعقد ہوا تھا، جس کے بعد اسلام آباد میں سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اسحاق ڈار نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں امتِ مسلمہ کا اتحاد پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ناگزیر ہے، اور پاکستان وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں خطے اور عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے امکانات پر بھی بات چیت کی گئی اور پاکستان کی جانب سے اس عمل میں سہولت کاری کی پیشکش پر شرکاء نے بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان نے اس حوالے سے چین کے وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بھی رابطہ کیا، جنہوں نے پاکستان کی امن کوششوں کی مکمل حمایت کی۔
انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ایران اور امریکا نے مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے، اور کہا کہ آنے والے دنوں میں ان مذاکرات کی میزبانی پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی اعزاز ہوگا۔