اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین ہونے والے تاریخی امن مذاکرات نے خطے کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں نئی دہلی میں شدید سفارتی اضطراب دیکھا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ اور ثالثی کے کردار پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر منعقدہ آل پارٹیز اجلاس میں جب بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی کامیاب ثالثی پر تشویش ظاہر کی تو ڈاکٹر جے شنکر نے غیر متوقع طور پر سخت اور غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کیا۔ انہوں نے پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کے جواب میں تند و تیز ریمارکس دیے، جسے سیاسی مبصرین نے بھارتی سفارتکاری کی بوکھلاہٹ قرار دیا ہے۔
India cannot act as a “dalal nation” in global geopolitics, External Affairs Minister @DrSJaishankar said at the all-party meet on West Asia crisis on Wednesday. The minister's remarks came when Opposition raised concerns over Pakistan mediating talks between United States and…
— IndiaToday (@IndiaToday) March 25, 2026
سیاسی و سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے جاری بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے بھارت کو عالمی سطح پر تنہائی کی اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اہم ترین علاقائی امن مذاکرات میں بھارت کا کوئی فعال کردار باقی نہیں رہا۔ مبصرین کے مطابق ایسے وقت میں جب پاکستان دنیا کے دو اہم ترین ممالک کو میز پر لانے میں کامیاب رہا ہے، بھارت کے پاس اس اہم سفارتی عمل میں نہ تو کوئی نشست ہے اور نہ ہی کوئی اثر و رسوخ۔
ناقدین نے بھارتی وزیرِ خارجہ کے حالیہ بیان کو “سفارتی آداب کے منافی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی سیاست میں اپنی جگہ کھونے کے بعد بھارت اب محض الزام تراشی اور سخت بیانی تک محدود ہو چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کا بطور میزبان ابھرنا نئی دہلی کے لیے ایک بڑی اسٹریٹجک ناکامی ثابت ہو رہا ہے۔