سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وہ تاریخی فرمان آج بھی معیارِ حکمرانی کی بنیاد ہے، قولِ عمر رضی اللہ عنہ: اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا يا پیاسا مر جائے تو مجھے ڈر ہے کہ قیامت کے دن اللہ مجھ سے اس کا حساب لے گا۔ یہ محض ایک جملہ نہیں تھا، بلکہ ایک حکمران کی اپنی سرزمین کے ہر زندہ وجود کے حقوق، تحفظ اور عدل کی اس فکر کا عکاس تھا جو واقعی اسلام کے فلسفے کی اصل روح ہے۔
لیکن جب ہم آج کے افغانستان اور خود کو امارتِ اسلامیہ کہلوانے والی طالبان حکومت پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک دردناک منظر سامنے آتا ہے۔ ایک طرف فاروقِ اعظمؓ کا دور تھا جہاں ایک بے زبان جانور کے حق کے لیے حاکمِ وقت خوفِ خدا سے کانپتا تھا، اور دوسری طرف آج کی امارتِ اسلامیہ ہے جہاں بدخشاں، زیبک، پنجشیر اور دیگر خطوں کے انسان اپنے بنیادی سیاسی، انسانی اور معاشی حقوق سے محروم ہیں۔ عوام کے حقوق پر غصب اور سخت گیری نے شہریوں کو اس حد تک دل برداشتہ کر دیا ہے کہ وہ خاموش ناپسندیدگی سے نکل کر مسلح مزاحمت کی طرف گامزن ہو چکے ہیں۔
سامری کے بچھڑے کا تاریخی واقعہ اسی تناظر میں ایک بڑا درس ہے۔ وہاں سونے کے ایک بے جان مجسمے میں سے نکلتی ایک مصنوعی آواز کو مقدس قرار دے کر سچ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہی صورتِ حال ہر اس دعوے کی ہوتی ہے جو محض ظاہری نعروں پر قائم ہو۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کا شہد کا کاروبار ہو اور وہ اس میں ملاوٹ اور دو نمبری کی تمام حدیں پار کر دے، لیکن اپنی دکان پر خالص شہد کا بورڈ سجا لے، تو کیا اس نام سے شہد کی اصل کیفیت بدل جائے گی؟ یا کسی دودھ کی دکان کا نام بسم اللہ ملک شاپ رکھ لینے سے کیمیکل اور ملاوٹ سے بنا دودھ خالص ہو جائے گا؟ بالکل اسی طرح اگر کسی ٹھیکیدار کے نام کے ساتھ حاجی صاحب کا لقب لگا ہو لیکن اس کی تعمیر کردہ سڑک پہلی ہی بارش میں بہہ جائے، تو وہ لقب اس سڑک کی پائیداری کی گارنٹی نہیں بن سکتا۔
یہی معاملہ امارتِ اسلامیہ کا بھی ہے۔ محض نام کے ساتھ اسلامیہ کا لیبل لگا دینے سے یہ سمجھ لینا غیر دانشمندی ہے کہ بس نام ہی کافی ہے۔ امارتِ اسلامیہ کا نام تب ہی مستند اور معتبر مانا جائے گا جب عملی طور پر اسلام کے احکامات، عدل و انصاف کے تقاضے، خواتین کے حقوق، عوام کا تحفظ اور تمام طبقات کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ اگر حاکم کا فیصلہ ناانصافی پر مبنی ہو اور عوام کو حقوق کے بجائے جبر ملے، تو “اسلامی” کا لیبل صرف ایک سجی ہوئی دکان کی مانند رہ جاتا ہے۔
یہ وہی تاریخ ہے جو آج سے چار پانچ دہائیاں قبل 1979 کے انقلاب کے بعد ہمارے ہمسایہ ملک میں دہرائی گئی تھی۔ وہاں سے دنیا بھر میں لا شیعۃ ولا سنیۃ اسلامیہ اسلامیہ کا نعری عام کیا گیا، لیکن جب ان کے عملی اقدامات جن میں شام، لیبیا اور عراق کی جانب نظر دوڑائی گئی، انکی فکر اور ان کے اکابرین کی تحریروں کا جائزہ لیا گیا تو ثابت ہو گیا کہ وہ نعرہ اسلام کے حقیقی اور روشن فلسفے سے کوسوں دور تھا اور نعروں کی چمک کے پیچھے طاقت کی ہوس کے سوا کچھ نہ تھا۔
طالبان کو دوبارہ اقتدار سنبھالے تقریباً پانچ سال بیت چکے ہیں، لیکن افغانستان کو نہ سیاسی استحکام ملا اور نہ ہی معاشی سکون۔ کابل کا یہ دعویٰ کہ پورے ملک پر ان کا غیر متنازع اور کامل کنٹرول ہے، ریت کی دیوار ثابت ہو رہا ہے۔ جو مزاحمت کل تک صرف پنجشیر یا اندراب کے پہاڑوں تک محدود سمجھی جاتی تھی، وہ اب بدخشان، کابل، بغلان، تخار، قندوز، پروان، کاپیسا، بلخ اور ہرات جیسے صوبوں میں منظم شورش کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
احمد مسعود کی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور یاسین ضیا کی افغان فریڈم فرنٹ کے درمیان اپریل 2026میں ہونے والا باہمی اتفاق اور 2026میں ہی نیشنل موبلائزیشن فرنٹ اور سپاہیانِ میہن جیسے نئے مسلح گروہوں کا ابھرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طالبان کا انکاری بیانیہ زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا۔
بدخشاں اور دیگر سرحدی علاقوں میں چوتھے روز بھی جاری رہنے والی جھڑپیں اور چوکیوں پر اپوزیشن کے قبضے کی وائرل ویڈیوز نے کابل حکومت کی سکیورٹی فورسز کو شدید دباؤ میں دھکیل دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی 16رپورٹ بھی یہی تصدیق کرتی ہے کہ انسدادِ شورش کارروائیوں کے باوجود مزاحمتی قوتوں کی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں۔
عوامی غم و غصہ جب ایک بار باقاعدہ عمل اور مزاحمت کی صورت اختیار کر لے تو پھر محض زبانی دعوے اور انکاری بیانیے حکومتوں کو نہیں بچا سکتے۔ کابل کے حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ اسلام نام ہے وفائے عہد، عدل اور شفقت کا۔ اگر وہ امارتِ اسلامیہ کے عنوان کو واقعی سچا ثابت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں عمر فاروقؓ کے اسوۂ حکمرانی کو اپناتے ہوئے عوام کے تمام غصب شدہ حقوق لوٹانا ہوں گے، ورنہ تاریخ کا یہ بے رحم سچ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ نام جتنا بھی مقدس ہو، اگر عمل فاسد ہو تو اس کا انجام زوال اور ناکامی ہی ہوتا ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں بڑھتی ہوئی مسلح مزاحمت اور طالبان کا مستقبل