عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے غزہ سٹی اور خان یونس پر شدید بمباری اور گولہ باری کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 31 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں 6 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے بعد یہ ایک دن میں سب سے زیادہ شہادتیں ہیں، جبکہ سیز فائر کے دوران اب تک 500 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اسپتالوں میں 17 لاشیں لائی گئیں، جبکہ ہفتے کی صبح سے اسرائیلی طیاروں کے متعدد فضائی حملوں میں کم از کم 12 فلسطینی جان سے گئے۔ مغربی غزہ میں ایک پولیس مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات ہیں۔
حماس کی مذمت
حماس نے غزہ پر اسرائیل کے تازہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ حماس کے مطابق اسرائیل ’’نسل کشی کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جنگ بندی کے معاہدے سے کھیل رہا ہے اور ثالثوں کی کوششوں کو نظر انداز کر رہا ہے‘‘۔ تنظیم نے ضامن ممالک اور امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مداخلت کریں اور اسرائیلی کارروائیاں رکوانے میں کردار ادا کریں۔
جنوبی لبنان پر بھی حملہ
دوسری جانب اسرائیل نے جنوبی لبنان پر بھی حملہ کیا، جس میں ایک شہری شہید اور دوسرا زخمی ہو گیا۔ اس پیش رفت نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
جنگ بندی معاہدہ اور پس منظر
واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا تھا، جو غزہ کے لیے پیش کیے گئے امن منصوبے کے پہلے مرحلے کا حصہ تھا۔ معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی شق شامل ہے۔ تاہم حالیہ حملوں نے معاہدے کی ساکھ اور امن کوششوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
علاقائی اور بین الاقوامی مبصرین کے مطابق مسلسل بمباری اور شہری ہلاکتیں نہ صرف انسانی بحران کو گہرا کر رہی ہیں بلکہ امن عمل کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
دیکھیے: ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘: اسرائیل اور آذربائیجان شامل، سویڈن نے حصہ بننے سے انکارکر دیا