یونیورسٹی آف لاہور کی حالیہ رپورٹ نے افغان طالبان کے انٹیلی جنس ڈھانچے کے تحت کام کرنے والے پروپیگنڈا پلیٹ فارم ‘المرصاد’ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ نیٹ ورک مصنوعی ذہانت اور مربوط غلط معلومات کے ذریعے پاکستان کے ریاستی تشخص کو مسخ کرنے اور پاک ایران سفارتی تعلقات میں دراڑ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

April 24, 2026

پاکستان نے افغانستان کو بائی پاس کرتے ہوئے چین کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے ایک نیا اور محفوظ تجارتی راستہ فعال کر دیا ہے۔ کرغزستان سے آنے والی پہلی تجارتی کھیپ سوست ڈرائی پورٹ پہنچ گئی ہے، جس سے وسطی ایشیا کی کراچی بندرگاہ تک براہِ راست رسائی ممکن ہو گئی ہے۔

April 24, 2026

پاک چین تاجر اتحاد ایکشن کمیٹی کی 68 روزہ طویل جدوجہد بالآخر کامیاب ہوگئی۔ سوست بارڈر پر معروف تاجر جلال الدین کی پہلی ٹیکس فری کنسائمنٹ پہنچ گئی ہے، جس پر متعلقہ کے مطابق تمام ٹیکسز معاف کر دیے گئے ہیں۔ اس پیشرفت سے خطے میں اشیاءِ ضرورت اب چین کی قیمتوں پر دستیاب ہوں گی۔

April 24, 2026

وال اسٹریٹ جرنل میں سدانند دھومے کی حالیہ تحریر، بعنوان “اسرائیل سے نفرت پاکستان کو پیچھے دھکیل رہی ہے”، دراصل بھارتی اسٹریٹجک مفادات کو بے نقاب کرتی ہے۔

April 24, 2026

ضلع خیبر میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران ‘فتنہ الخوارج’ کے 22 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک معصوم بچہ شہید ہو گیا۔

April 24, 2026

افغانستان کے صوبے نیمروز میں ایک مبینہ ڈرون حملے میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا اہم کمانڈر مہران لاشاری ہلاک ہو گیا ہے۔ مہران لاشاری پاکستان کو انتہائی مطلوب تھا اور متعدد دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث رہا۔

April 24, 2026

ٹرمپ کا اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں مزید 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے اسے خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں مزید 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے اسے خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں اسرائیل اور لبنان کے سفراء سے اہم ملاقات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں 21 روز کی توسیع کا اعلان کر دیا۔ اسرائیلی اور لبنانی سفرا نے اس موقع کو تاریخی قرار دیتے ہوئے قیامِ امن کے لیے امریکی کوششوں کی تعریف کی ہے۔

April 24, 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد کیا گیا جس میں دونوں ممالک کے سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ہمراہ اسرائیل اور لبنان کے سفرا سے ہونے والی ملاقات انتہائی کامیاب رہی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ لبنان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ اسے حزب اللہ کے اثر و رسوخ سے پاک اور محفوظ بنایا جا سکے۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ جلد ہی اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کے منتظر ہیں۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یخیئیل لائٹر نے اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور لبنان آج ایک دوسرے کے جتنے قریب ہیں، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے قیامِ امن کے لیے صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی موقع کا دہائیوں سے انتظار کیا جا رہا تھا۔

دوسری جانب امریکہ میں لبنان کی سفیر نادا حمادہ معوّض نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے امریکی صدر کے عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ کی اسی طرح حمایت جاری رہی تو لبنان کو دوبارہ ایک عظیم اور مستحکم ملک بنایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ جنگ بندی میں یہ توسیع ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اس مہلت سے خطے میں مستقل امن کے قیام کے لیے جاری مذاکرات کو ٹھوس بنیادیں فراہم ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

یونیورسٹی آف لاہور کی حالیہ رپورٹ نے افغان طالبان کے انٹیلی جنس ڈھانچے کے تحت کام کرنے والے پروپیگنڈا پلیٹ فارم ‘المرصاد’ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ نیٹ ورک مصنوعی ذہانت اور مربوط غلط معلومات کے ذریعے پاکستان کے ریاستی تشخص کو مسخ کرنے اور پاک ایران سفارتی تعلقات میں دراڑ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

April 24, 2026

پاکستان نے افغانستان کو بائی پاس کرتے ہوئے چین کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے ایک نیا اور محفوظ تجارتی راستہ فعال کر دیا ہے۔ کرغزستان سے آنے والی پہلی تجارتی کھیپ سوست ڈرائی پورٹ پہنچ گئی ہے، جس سے وسطی ایشیا کی کراچی بندرگاہ تک براہِ راست رسائی ممکن ہو گئی ہے۔

April 24, 2026

پاک چین تاجر اتحاد ایکشن کمیٹی کی 68 روزہ طویل جدوجہد بالآخر کامیاب ہوگئی۔ سوست بارڈر پر معروف تاجر جلال الدین کی پہلی ٹیکس فری کنسائمنٹ پہنچ گئی ہے، جس پر متعلقہ کے مطابق تمام ٹیکسز معاف کر دیے گئے ہیں۔ اس پیشرفت سے خطے میں اشیاءِ ضرورت اب چین کی قیمتوں پر دستیاب ہوں گی۔

April 24, 2026

وال اسٹریٹ جرنل میں سدانند دھومے کی حالیہ تحریر، بعنوان “اسرائیل سے نفرت پاکستان کو پیچھے دھکیل رہی ہے”، دراصل بھارتی اسٹریٹجک مفادات کو بے نقاب کرتی ہے۔

April 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *