...
عالمی سطح پر فن لینڈ مسلسل 9 ویں سال دنیا کا خوش ترین ملک قرار پایا، جبکہ آئس لینڈ اور ڈنمارک بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے

March 19, 2026

مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ کسی بھی علاقے سے چاند نظر آنے کی مصدقہ شرعی شہادت موصول نہیں ہوئی، اس لیے رمضان المبارک 1447 ہجری کے 30 روزے مکمل کیے جائیں گے۔

March 19, 2026

مہاجرین کا کہنا تھا کہ سیز فائر کا احترام کرتے ہوئے بارڈر کھولا جائے تاکہ راستوں میں پھنسے افغان شہری واپس جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت میگا آپریشن سے گریز کرے اور مہاجرین کو عید تک اپنے اہلخانہ کے ساتھ رہنے دیا جائے

March 19, 2026

فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کو اہم سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا فروغ صنعت، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں انقلاب برپا کرے گا۔

March 19, 2026

اسرائیلی میڈیا کے مطابق رضاکار فوجیوں نے راکٹ اور میزائل حملوں سے ناکافی تحفظ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پوسٹنگ پر رپورٹ کرنے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بار بار مطالبات کے باوجود بنکرز کی فراہمی لاجسٹک مسائل کے نام پر مؤخر کی جا رہی ہے

March 19, 2026

عائشہ گل ایراسلان سوشل میڈیا پر ایک معروف فیشن انفلوئنسر تھیں اور ان کے لاکھوں فالوورز تھے، جبکہ وہ ترک فیشن شوز میں بھی حصہ لے چکی تھیں

March 19, 2026

اسرائیل، بھارت اور بی ایل اے کا گٹھ جوڑ بے نقاب: اسرائیلی تاریخ دان نے فتنہ الہندوستان بی ایل اے کیلئے اسرائیلی فنڈنگ اور معاونت کا اعتراف کرلیا

ڈاکٹر ہائم بریشیتھ-زابنر کے الزامات اور میمری کے بلوچستان ڈیسک کا قیام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ اب صرف داخلی سلامتی کا چیلنج نہیں رہا بلکہ ایک بین الاقوامی بیانیاتی محاذ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں سفارتی حکمتِ عملی، مؤثر ابلاغ اور زمینی حقائق کی درست ترجمانی پاکستان کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔
اسرائیل، بھارت اور بی ایل اے کا گٹھ جوڑ بے نقاب: اسرائیلی تاریخ دان نے فتنہ الہندوستان بی ایل اے کیلئے اسرائیلی فنڈنگ اور معاونت کا اعراتف کرلیا

ان کے مطابق پاکستان ایک مضبوط اور ایٹمی ریاست ہونے کے باعث اسرائیلی اسٹریٹجک مفادات کی راہ میں رکاوٹ ہے، جسے بالواسطہ دباؤ کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

February 2, 2026

اسرائیل اور بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مبینہ تعلقات ایک بار پھر زیرِ بحث آ گئے ہیں، جب معروف اسرائیلی مؤرخ اور فلم ساز ڈاکٹر ہائم بریشیتھ-زابنر نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل خطے میں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے بلوچ عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

ڈاکٹر ہائم بریشیتھ-زابنر، جو خود صیہونی پالیسیوں کےماہر تجزیہ کار سمجھے جاتے ہیں، کا کہنا ہے کہ اسرائیل ماضی میں بھی مختلف خطوں میں ریاستوں کو کمزور کرنے کے لیے غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حمایت کرتا رہا ہے اور بلوچستان میں سرگرم گروہوں کی سرپرستی بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ایک مضبوط اور ایٹمی ریاست ہونے کے باعث اسرائیلی اسٹریٹجک مفادات کی راہ میں رکاوٹ ہے، جسے بالواسطہ دباؤ کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

میمری کا کردار

اسی تناظر میں مشرق وسطیٰ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میمری کا کردار بھی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں میں میمری کی جانب سے بلوچستان ڈیسک کے قیام کو ماہرین ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق میمری، جو ماضی میں اسرائیلی بیانیے کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے جانی جاتی ہے، اب بلوچستان کے معاملے کو بین الاقوامی میڈیا اور پالیسی حلقوں میں ایک مخصوص زاویے سے پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سکیورٹی اور خارجہ امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میمری کی رپورٹس میں اکثر بی ایل اے جیسے مسلح گروہوں کو ’’علیحدگی پسند‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ ان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں، خودکش حملوں، مزدوروں اور عام شہریوں کے قتل جیسے جرائم کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانیہ عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی ایک منظم کوشش ہے۔

سکیورٹی خدشات اور ریاستی مؤقف

پاکستانی سکیورٹی ذرائع پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ بی ایل اے کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے، جس میں بھارت کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی اور ماورائے خطہ عناصر بھی شامل ہیں۔ بھارتی پشت پناہی کے واضح ثبوتوں کے بعد بی ایل اے کو باقاعدہ فتنہ الہندوستان بھی ڈیکلیئر کیا جا چکا ہے۔ ڈاکٹر ہائم بریشیتھ-زابنر کے حالیہ بیان کو انہی خدشات کی ایک فکری توثیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ریاست پاکستان اس معاملے کو سفارتی اور سکیورٹی دونوں سطحوں پر سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے، جبکہ عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوششیں جاری ہیں کہ بلوچستان میں دہشت گردی محض اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ بیرونی مداخلت کا نتیجہ ہے۔

بیانیے کی جنگ

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جدید دور میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ بیانیے، میڈیا اور تھنک ٹینکس کے ذریعے بھی لڑی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق میمری جیسے اداروں کی سرگرمیاں اور اسرائیلی دانشوروں کے بیانات اس وسیع تر بیانیاتی جنگ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر دفاعی پوزیشن میں دھکیلنا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ حقائق، اعداد و شمار اور مستند شواہد کے ساتھ اس بیانیے کا مؤثر جواب دے، تاکہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی کے اصل محرکات اور پشت پناہوں کو بے نقاب کیا جا سکے۔

ڈاکٹر ہائم بریشیتھ-زابنر کے الزامات اور میمری کے بلوچستان ڈیسک کا قیام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ اب صرف داخلی سلامتی کا چیلنج نہیں رہا بلکہ ایک بین الاقوامی بیانیاتی محاذ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں سفارتی حکمتِ عملی، مؤثر ابلاغ اور زمینی حقائق کی درست ترجمانی پاکستان کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔

دیکھیے: افغان عہدیدار کے سوشل میڈیا بیانات میں بی ایل اے کی حمایت، پاکستان کے شدید تحفظات

متعلقہ مضامین

عالمی سطح پر فن لینڈ مسلسل 9 ویں سال دنیا کا خوش ترین ملک قرار پایا، جبکہ آئس لینڈ اور ڈنمارک بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے

March 19, 2026

مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ کسی بھی علاقے سے چاند نظر آنے کی مصدقہ شرعی شہادت موصول نہیں ہوئی، اس لیے رمضان المبارک 1447 ہجری کے 30 روزے مکمل کیے جائیں گے۔

March 19, 2026

مہاجرین کا کہنا تھا کہ سیز فائر کا احترام کرتے ہوئے بارڈر کھولا جائے تاکہ راستوں میں پھنسے افغان شہری واپس جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت میگا آپریشن سے گریز کرے اور مہاجرین کو عید تک اپنے اہلخانہ کے ساتھ رہنے دیا جائے

March 19, 2026

فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کو اہم سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا فروغ صنعت، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں انقلاب برپا کرے گا۔

March 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.