لندن میں تعینات بھارتی ہائی کمیشن کے سینئر اہلکار شری رام پرکاش کو کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں باضابطہ طور پر شرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اس باقاعدہ شرکت نے پاکستان کے سکیورٹی اور ریاستی اداروں کے اس موقف پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے جو وہ روزِ اول سے اختیار کیے ہوئے تھے کہ یہ تنظیم محض ایک احتجاجی پلیٹ فارم نہیں بلکہ مکمل طور پر ریاست مخالف اور بھارتی ایجنڈے پر کاربند ہے۔
مظاہرے کے دوران بھارتی سفارتکار کی موجودگی، شرکاء کے ساتھ قریبی رابطے اور ان کی پشت پناہی سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ اس تنظیم کی تمام تر سیاسی و مالی باگ ڈور بھارت کے ہاتھ میں ہے۔ بھارتی اہلکار کی شمولیت سے ثابت ہوتا ہے کہ معرکہ حق میں رسوا کن شکست کا سامنا کرنے کے بعد بھارت اپنی شاطرانہ سازشوں کے تحت پاکستان کی شہِ رگ یعنی کشمیر کے امن کو برباد کرنے کے لیے ان گماشتوں کا استعمال کر رہا ہے۔
احتجاج اور دھرنوں کے دوران رینجرز اور سکیورٹی اہلکاروں پر ہتھیار چلانا، انہیں شہید کرنا اور تشدد کو فروغ دینا محض کوئی اتفاقی واقعات نہیں تھے، بلکہ اس بھارتی منصوبے کا حصہ تھے جس کی منصوبہ بندی سرحد پار کی گئی۔ اس سے قبل کالعدم تنظیم کے مسلح عناصر کی وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز سے بھی یہ اشارے ملے تھے کہ ان شرپسندوں کو ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔
تحریکِ آزادیِ کشمیر کے رہنماؤں اور سیاسی شخصیات نے اس نام نہاد کمیٹی کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ میر واعظ عمر فاروق، جن کی اور جن کے آباؤ اجداد کی کشمیر کے لیے بے پناہ قربانیاں روشن تاریخ کا حصہ ہیں، انہوں نے بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بیانیے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کشمیری قیادت نے واضح کیا ہے کہ بھارتی سرپرستی میں چلنے والے اس ٹولے کا کشمیر اور کشمیریوں کے حقوق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس تنظیم سے وابستہ شرپسندوں کا رویہ ہمیشہ سے اپنے اکابرین کے خلاف انتہائی توہین آمیز رہا ہے۔ کمانڈر فاروق کے جنازے کے موقع پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے گماشتوں نے تحریکِ کشمیر کے قائدین اور عمائدین کے راستے روکے اور ان سے بدتمیزی کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عناصر محض بھارتی اشاروں پر کشمیریوں کی نظریاتی اساس اور امن و امان کو تباہ کرنے کا مشن پورا کر رہے ہیں۔
اب جبکہ تمام حقائق اور شواہد روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکے ہیں، عوام کے سامنے بھی یہ بات مکمل طور پر واضح ہو چکی ہے کہ اس پر تشدد اور ریاست مخالف تحریک کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما ہیں اور ان کی سرپرستی کون کر رہا ہے۔ لندن کے مظاہرے میں بھارتی سفارتکار کی شرکت نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ کمیٹی عوامی حقوق کے نام پر بھارتی ایجنڈے کی تکمیل کر رہی ہے، جس کا مقصد ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلانے کے سوا کچھ نہیں۔