کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بھارت سے روابط؟ اہم شواہد سامنے آ گئے

لندن میں بھارتی سفارتکار شری رام پرکاش کی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مظاہرے میں باضابطہ شرکت نے اس کی بھارتی سرپرستی کا پول کھول دیا ہے۔
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بھارت سے روابط: اہم شواہد سامنے آ گئے

لندن میں بھارتی سفارتکار کی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مظاہرے میں شرکت؛ بھارتی روابط کے اہم شواہد سامنے آنے پر ریاستی مؤقف درست ثابت ہو گیا۔

August 4, 2026

لندن میں تعینات بھارتی ہائی کمیشن کے سینئر اہلکار شری رام پرکاش کو کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں باضابطہ طور پر شرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اس باقاعدہ شرکت نے پاکستان کے سکیورٹی اور ریاستی اداروں کے اس موقف پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے جو وہ روزِ اول سے اختیار کیے ہوئے تھے کہ یہ تنظیم محض ایک احتجاجی پلیٹ فارم نہیں بلکہ مکمل طور پر ریاست مخالف اور بھارتی ایجنڈے پر کاربند ہے۔

مظاہرے کے دوران بھارتی سفارتکار کی موجودگی، شرکاء کے ساتھ قریبی رابطے اور ان کی پشت پناہی سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ اس تنظیم کی تمام تر سیاسی و مالی باگ ڈور بھارت کے ہاتھ میں ہے۔ بھارتی اہلکار کی شمولیت سے ثابت ہوتا ہے کہ معرکہ حق میں رسوا کن شکست کا سامنا کرنے کے بعد بھارت اپنی شاطرانہ سازشوں کے تحت پاکستان کی شہِ رگ یعنی کشمیر کے امن کو برباد کرنے کے لیے ان گماشتوں کا استعمال کر رہا ہے۔

احتجاج اور دھرنوں کے دوران رینجرز اور سکیورٹی اہلکاروں پر ہتھیار چلانا، انہیں شہید کرنا اور تشدد کو فروغ دینا محض کوئی اتفاقی واقعات نہیں تھے، بلکہ اس بھارتی منصوبے کا حصہ تھے جس کی منصوبہ بندی سرحد پار کی گئی۔ اس سے قبل کالعدم تنظیم کے مسلح عناصر کی وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز سے بھی یہ اشارے ملے تھے کہ ان شرپسندوں کو ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔

تحریکِ آزادیِ کشمیر کے رہنماؤں اور سیاسی شخصیات نے اس نام نہاد کمیٹی کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ میر واعظ عمر فاروق، جن کی اور جن کے آباؤ اجداد کی کشمیر کے لیے بے پناہ قربانیاں روشن تاریخ کا حصہ ہیں، انہوں نے بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بیانیے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کشمیری قیادت نے واضح کیا ہے کہ بھارتی سرپرستی میں چلنے والے اس ٹولے کا کشمیر اور کشمیریوں کے حقوق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس تنظیم سے وابستہ شرپسندوں کا رویہ ہمیشہ سے اپنے اکابرین کے خلاف انتہائی توہین آمیز رہا ہے۔ کمانڈر فاروق کے جنازے کے موقع پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے گماشتوں نے تحریکِ کشمیر کے قائدین اور عمائدین کے راستے روکے اور ان سے بدتمیزی کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عناصر محض بھارتی اشاروں پر کشمیریوں کی نظریاتی اساس اور امن و امان کو تباہ کرنے کا مشن پورا کر رہے ہیں۔

اب جبکہ تمام حقائق اور شواہد روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکے ہیں، عوام کے سامنے بھی یہ بات مکمل طور پر واضح ہو چکی ہے کہ اس پر تشدد اور ریاست مخالف تحریک کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما ہیں اور ان کی سرپرستی کون کر رہا ہے۔ لندن کے مظاہرے میں بھارتی سفارتکار کی شرکت نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ کمیٹی عوامی حقوق کے نام پر بھارتی ایجنڈے کی تکمیل کر رہی ہے، جس کا مقصد ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلانے کے سوا کچھ نہیں۔

متعلقہ مضامین

بلوچستان اور لکی مروت میں سکیورٹی کارروائیوں کے دوران خودکش بمبار سمیت 19 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے، پاک فوج کا ایک سپاہی شہید ہوا۔

November 4, 2026

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *