دنیا بھر کی سیاسی و دینی جماعتوں میں سب سے زیادہ جس چیز کو اہمیت دی جاتی ہے، وہ ان کے مخلص کارکنان اور نظریاتی ذمہ داران ہوتے ہیں، کیونکہ انہی کی محنت اور قربانیوں کے بل بوتے پر جماعتیں ایوانوں تک پہنچتی ہیں۔ لیکن جمعیت علمائے اسلام (ف) کی صفوں میں معامله بالکل اس کے الٹ دکھائی دیتا ہے۔
جے یو آئی کے ہزاروں مخلص کارکنان اور دہائیوں سے نظریاتی جنگ لڑنے والے سینیئر رہنماؤں کو صرف جلسے جلوسوں، احتجاجی مظاہروں اور پریس کانفرنسوں تک محدود رکھا جاتا ہے، جبکہ اقتدار کی دیگ پکتے ہی تمام بڑی اور اہم وفاقی وزارتیں مولانا فضل الرحمن کے اپنے خاندان کے حصے میں آتی ہیں۔
اس موروثی تسلط اور خاندانی اقتدار کی سب سے واضح اور حالیہ مثال ان کے صاحبزادے اسد محمود کا سیاسی عروج ہے۔ پاکستان ڈیموٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) حکومت کے قیام کے وقت جب وفاقی وزارتوں کی تقسیم کی جا رہی تھی، تو مولانا فضل الرحمن نے اپنی جماعت کے لیے جس سب سے اہم اور اربوں روپے کے بجٹ والی وزارت کا مطالبہ کیا، وہ وزارتِ مواصلات تھی۔
جے یو آئی کے اندر سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری اور کامران مرتضیٰ جیسے درجنوں تجربہ کار اور تعلیم یافتہ رہنما موجود تھے، لیکن اس اہم اور تکنیکی وزارت کے لیے مولانا کو اپنے بیٹے کے علاوہ کوئی دوسرا اہل نظر نہ آیا۔ اسد محمود کو اتنی بڑی وفاقی وزارت سونپنے کا واحد معیار یہی تھا کہ وہ مولانا کے فرزند ہیں۔
تاہم، اس خاندانی مفاہمت اور اقربا پروری کا نتیجہ ملک اور اس اہم محکمے کے لیے ہرگز اچھا ثابت نہ ہوا۔ اسد محمود کی بطور وفاقی وزیرِ مواصلات اور قومی شاہراہ اتھارٹی (این ایچ اے) کے سربراہ کی کارکردگی انتہائی شکوک و شبہات کا شکار رہی۔ زیرِ التوا شاہراہوں کے متعدد منصوبے، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اہم روٹس اور موٹرویز کی مرمت کے کام انتظامی عدم تدبر کا شکار رہے۔
جس انتظامی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کی اس وزارت کو شدید ضرورت تھی، وہ اسد محمود کی عدم تجربہ کاری کی نذر ہو گئی، اور یہ تاثر مزید گہرا ہوا کہ یہ اہم محکمہ ملکی ترقی کے بجائے محض سیاسی پروٹوکول کا لطف اٹھانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
یہ المیہ صرف اسد محمود کی ذات تک محدود نہیں رہا، بلکہ اقتدار کے اس دسترخوان سے مولانا کے پورے کنبے نے فیض حاصل کیا۔ ان کے بھائی مولانا عطاء الرحمن کو وفاقی وزیرِ مذہبی امور کی مسند پر بٹھایا گیا اور سینیٹ کی نشستوں سے نوازا گیا، جبکہ ان کے ایک اور بھائی مولانا ضیاء الرحمن کو کسی متعلقہ سول سروس امتحان یا تجربے کے بغیر، صرف سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر کراچی جیسے اہم شہر میں گریڈ 19 کا ڈپٹی کمشنر تعینات کروایا گیا۔ اس کھلی اقربا پروری پر بیوروکریسی اور عوام میں شدید اشتعال اور تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔
اس پوری صورتحال کا سب سے دردناک اور افسوسناک پہلو وہ واضح تضاد ہے جو خیبر پختونخوا کے عام ووٹر کے سامنے آتا ہے۔ جو غریب اور مخلص کارکن مولانا کے ایک اشارے پر اسلام آباد کی سڑکوں پر لاٹھیاں کھاتا ہے، بلاجواز جیلیں کاٹتا ہے اور جہوریت کی حفاظت کا نعرہ لگا کر اپنی جوانی قربان کرتا ہے، اسے بدلے میں صرف نظریاتی دلاسے دیے جاتے ہیں۔ جبکہ اس تمام تر جدوجہد اور سیاسی سودے بازی کا اصلی پھل یعنی اسلام آباد کے سرسبز بنگلے، سرکاری گاڑیاں اور اربوں کے بجٹ والے وفاقی محکمے بلا شرکتِ غیرے صرف اور صرف مولانا کے بیٹوں، بھائیوں اور رشتہ داروں کی جھولی میں جا گرتے ہیں۔
دیکھیے: لکی مروت میں سکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 4 خوارج ہلاک





