افغانستان کے دارالحکومت کابل سے انتہائی افسوسناک خبر سامنے آئی ہے جہاں گزشتہ شب میڈیا اور انسانی حقوق کی کارکن انوشہ محمدی کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔ اس واقعے نے ملک میں صحافیوں، بالخصوص خواتین میڈیا کارکن کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
واقعے کی تفصیلات
ابتدائی اطلاعات کے مطابق انوشہ محمدی کو کابل کے ایک علاقے میں نشانہ بنایا گیا، تاہم قتل کے محرکات اور قاتلوں کی شناخت تاحال پراسرار بنی ہوئی ہے۔ مقامی حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، لیکن ابھی تک کسی گروہ نے اس کاروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
سماجی حلقوں کا ردِعمل
انوشہ محمدی طویل عرصے سے میڈیا کے شعبے سے وابستہ تھیں اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے میں پیش پیش رہتی تھیں۔ ان کے قتل پر مقامی اور عالمی صحافتی تنظیموں نے گہرے دکھ اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات افغانستان میں آزادئ صحافت اور خواتین کارکنوں کے لیے کام کرنے کے حالات کو مزید کٹھن بنا دیں گے۔
تحقیقات کا مطالبہ
بین الاقوامی میڈیا واچ ڈاگ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے کابل انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قتل کی شفاف اور فوری تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب افغانستان میں میڈیا ہاؤسز اور صحافتی کارکن پہلے ہی شدید دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
دیکھیے: اے ایف ایف کا مسلسل تیسرا حملہ، 4 طالبان ہلاک و زخمی