افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گزشتہ رات تجربہ کار میڈیا کارکن انوشہ محمدی کو پراسرار طور پر قتل کر دیا گیا، جس کے بعد صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے

February 18, 2026

پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے اپنے لیڈر کی اندھی تقلید میں ریاست، اداروں اور ملکی معیشت کے خلاف جاری مہم نے سیاسی احتجاج اور بغاوت کے درمیان لکیر ختم کر دی ہے

February 18, 2026

وزیرِ خارجہ اسحق ڈار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین کی صورتحال پر منعقدہ خصوصی بریفنگ میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان کا مٔوقف پیش کریں گے

February 18, 2026

شہباز گل کی جانب سے بانئ پی ٹی آئی کی صحت اور بینائی کے حوالے سے پھیلائی گئی سنسنی خیزی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے محض ایک سیاسی پروپیگنڈا قرار دیا گیا ہے

February 18, 2026

نقاب پوش وردی میں ملبوس افراد کی جانب سے تحائف دیتے ہوئے مناظر جاری کرنا اور اس عمل کو نمایاں انداز میں پیش کرنا، بعض مبصرین کے نزدیک القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کے پروپیگنڈا طریقۂ کار کی یاد دلاتا ہے، جہاں قیدیوں کے تبادلے کو علامتی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دکھایا جاتا رہا ہے۔

February 17, 2026

دوسری جانب بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے خیبرپختونخوا حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ احتجاج کی سیاست کے نام پر اپنے ہی صوبے کو بند کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “احتجاج_کی_سیاست کے تحت خود ہی صوبہ بند کر دینا مسائل کا حل نہیں، ایسے نہیں چلے گا۔”

February 17, 2026

کابل میں تجربہ کار صحافی انوشہ محمدی کا پُراسرار قتل، صحافی حلقوں میں تشویش

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گزشتہ رات تجربہ کار میڈیا کارکن انوشہ محمدی کو پراسرار طور پر قتل کر دیا گیا، جس کے بعد صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گزشتہ رات تجربہ کار میڈیا کارکن انوشہ محمدی کو پراسرار طور پر قتل کر دیا گیا، جس کے بعد صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے

کابل میں میڈیا کارکن اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم انوشہ محمدی کے پراسرار قتل نے افغانستان میں صحافیوں کی حفاظت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں

February 18, 2026

افغانستان کے دارالحکومت کابل سے انتہائی افسوسناک خبر سامنے آئی ہے جہاں گزشتہ شب میڈیا اور انسانی حقوق کی کارکن انوشہ محمدی کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔ اس واقعے نے ملک میں صحافیوں، بالخصوص خواتین میڈیا کارکن کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

واقعے کی تفصیلات
ابتدائی اطلاعات کے مطابق انوشہ محمدی کو کابل کے ایک علاقے میں نشانہ بنایا گیا، تاہم قتل کے محرکات اور قاتلوں کی شناخت تاحال پراسرار بنی ہوئی ہے۔ مقامی حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، لیکن ابھی تک کسی گروہ نے اس کاروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

سماجی حلقوں کا ردِعمل
انوشہ محمدی طویل عرصے سے میڈیا کے شعبے سے وابستہ تھیں اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے میں پیش پیش رہتی تھیں۔ ان کے قتل پر مقامی اور عالمی صحافتی تنظیموں نے گہرے دکھ اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات افغانستان میں آزادئ صحافت اور خواتین کارکنوں کے لیے کام کرنے کے حالات کو مزید کٹھن بنا دیں گے۔

تحقیقات کا مطالبہ
بین الاقوامی میڈیا واچ ڈاگ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے کابل انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قتل کی شفاف اور فوری تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب افغانستان میں میڈیا ہاؤسز اور صحافتی کارکن پہلے ہی شدید دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

دیکھیے: اے ایف ایف کا مسلسل تیسرا حملہ، 4 طالبان ہلاک و زخمی

متعلقہ مضامین

پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے اپنے لیڈر کی اندھی تقلید میں ریاست، اداروں اور ملکی معیشت کے خلاف جاری مہم نے سیاسی احتجاج اور بغاوت کے درمیان لکیر ختم کر دی ہے

February 18, 2026

وزیرِ خارجہ اسحق ڈار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین کی صورتحال پر منعقدہ خصوصی بریفنگ میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان کا مٔوقف پیش کریں گے

February 18, 2026

شہباز گل کی جانب سے بانئ پی ٹی آئی کی صحت اور بینائی کے حوالے سے پھیلائی گئی سنسنی خیزی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے محض ایک سیاسی پروپیگنڈا قرار دیا گیا ہے

February 18, 2026

نقاب پوش وردی میں ملبوس افراد کی جانب سے تحائف دیتے ہوئے مناظر جاری کرنا اور اس عمل کو نمایاں انداز میں پیش کرنا، بعض مبصرین کے نزدیک القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کے پروپیگنڈا طریقۂ کار کی یاد دلاتا ہے، جہاں قیدیوں کے تبادلے کو علامتی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دکھایا جاتا رہا ہے۔

February 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *