کابل اور ننگرہار میں حالیہ فضائی حملوں کے بعد افغان دارالحکومت میں صورتحال نہ صرف سکیورٹی کے اعتبار سے حساس ہو گئی ہے بلکہ الزامات کی جنگ بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ مختلف بیانیے سامنے آ رہے ہیں جن میں ایک جانب طالبان کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا جس میں متعدد عام شہری ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ دوسری جانب زمینی حقائق، عینی شواہد اور سرکاری مؤقف اس دعوے کی تردید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سترہ مارچ دو ہزار چھبیس کو آپریشن “غضب للحق” کے تحت کیے گئے فضائی حملوں میں صرف ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو افغان طالبان کے زیر استعمال عسکری تنصیبات تھیں اور جہاں سے دہشتگرد گروہوں کو معاونت فراہم کی جا رہی تھی۔ سرکاری مؤقف کے مطابق کابل میں دو اہم مقامات پر اسلحہ کے ذخائر اور تکنیکی ڈھانچے کو تباہ کیا گیا، جس کے بعد ہونے والے ثانوی دھماکے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں بڑی مقدار میں بارود اور اسلحہ موجود تھا۔ اسی طرح ننگرہار میں بھی چار عسکری نوعیت کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا جہاں لاجسٹک اور اسلحہ کے مراکز قائم تھے۔
حیران کن طور پر دو دن قبل طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ قندھار میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اگلے ہی دن ایک اور ایسے ہسپتال پر حملے اور 400 ہلاکتوں کا دعویٰ کر دینا محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔ یا تو یہ محض الزامات ہیں، یا پھر طالبان کا پہلے سے پلان کیا گیا ایک واقعہ ہے تاکہ الزام پاکستان پر عائد کر کے ہمدردیاں سمیٹی جا سکیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کسی بڑے شہری مرکز پر حملہ کیا جاتا تو اس کے واضح شواہد اور ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آتیں، جو اس دعوے کو مشکوک بناتی ہیں۔ مزید برآں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز اور مقامی بیانات میں یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ بعض مقامات پر آگ یا نقصان خود طالبان کی جانب سے کیا گیا تاکہ اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا جا سکے اور بین الاقوامی سطح پر ہمدردی حاصل کی جا سکیں۔
کابل سے آنے والی مختلف ویڈیوز اور رپورٹس یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ شہر کے اندر رائے عامہ منقسم ہے۔ کچھ حلقے پاکستان کے خلاف غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ دیگر افراد ان کارروائیوں کو دہشتگردی کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے مختلف ردعمل دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ تقسیم اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ افغان معاشرہ خود بھی اس صورتحال کو یکساں نظر سے نہیں دیکھ رہا۔
دوسری جانب ایک اور ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ایک پشتون مبینہ طور پر اسپتال کو خود طالبان نے آگ لگائی تاکہ منشیات کے عادی افراد سے نجات حاصل کی جا سکے اور اس کا الزام پاکستان پر ڈالا جا سکے۔
پاکستانی مؤقف میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کا ہدف صرف وہ عناصر اور تنصیبات ہیں جو دہشتگردی کی معاونت میں ملوث ہیں، جن میں فتنہ الخوارج اور دیگر گروہ شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات جاری رکھے گا اور کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے کے ذریعے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔
دیکھیے: کابل کے حساس علاقے میں ٹی ٹی پی قیادت کی پناہ گاہیں، عالمی برادری کے شدید تحفظات