کابل کے علاقہ شہر نو میں بلا معاوضہ لوگوں کے گھر گرانے پر شدید غم وغصہ اورا حتجاج پایا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں اہل علاقہ کا ایک جرگہ حاجی ملک دین خان اور بابرزئی کی قیادت میں ہوا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نئی سڑک بنانے کے نقشے میں جو گھر زد میں آ رہے ہیں، انہیں گرانے سے پہلے عمارت اور زمین کا مکمل اور منصفانہ معاوضہ موجودہ بازار کے نرخ کے مطابق ادا کیا جائے، معاوضہ دیے بغیر گھروں کو مسمار کرنا ظلم اور ناانصافی ہے، جس کی مزاحمت کی جائے گی۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں حاجی ملک دین نے کہا کہ طالبان نے لوگوں کو پریشانیوں کے سوا کچھ نہیں دیا، جس کی وجہ سے لوگ اس وقت شدید غصے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک جانب لوگوں کی قوتِ خرید نہ ہونے کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہیں، دوسری جانب آپ لوگوں کی وجہ سے ملک پر جنگ مسلط ہوگئی ہے اور اس سب کے باوجود آپ لوگ اب ہمارے گھر بھی مسمار کرنا چاہتے ہیں، یہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ طالبان یاد رکھیں مسلمان کے لیے اس کا گھر حجاب اور عزت کی حیثیت رکھتا ہے، اسے منہدم کرنا اس کی پردہ داری اور حرمت کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت پہلے ہمارا حق ادا کرے، اس کے بعد مسماری کا سوچے۔ ورنہ حکومت کے لیے اچھا نہیں ہوگا، ہم اپنی عزت اور ملکیت کے تحفظ کے لیے آخری حد تک جا سکتے ہیں۔