خطے میں جاری تبدیلیوں اور چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں فریقین نے علاقائی استحکام اور سفارتی روابط کو مزید بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔

April 12, 2026

امریکی صدر ٹرمپ کا بیان فیصلہ کن ہے، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کی واحد وجہ ایران کا جوہری پروگرام پر مؤقف تھا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، مگر ایران نے جوہری معاملے پر کوئی لچک نہیں دکھائی، جس کے باعث حتمی معاہدہ ممکن نہ ہو سکا۔

April 12, 2026

ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی میزبانی اور کردار کو سراہا، اور کہا کہ مذاکرات تقریباً 20 گھنٹے جاری رہے۔

April 12, 2026

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وفد کو الوداع کیا

April 12, 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی پاکستان کے کردار اور میزبانی کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان نے مثبت اور متوازن کردار ادا کیا۔

April 12, 2026

پاکستان کی ساحلی اور بندرگاہی سکیورٹی ایک منظم نظام کے تحت کام کر رہی ہے، اور کسی ایک واقعے کو بنیاد بنا کر بین الاقوامی بحری سرگرمیوں کیلئے خطرے کا تاثر دینا حقائق کے منافی ہو سکتا ہے۔

April 12, 2026

کابل ملاقات: ترکیہ اور افغان حکام کے درمیان علاقائی صورتحال اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال

خطے میں جاری تبدیلیوں اور چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں فریقین نے علاقائی استحکام اور سفارتی روابط کو مزید بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔
افغانی حکام کی ترکیہ سفیر سے ملاقات

ترکیہ اور افغانستان کے درمیان روابط کو موجودہ علاقائی تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے، جہاں مختلف ممالک کے درمیان مشاورت کا سلسلہ تیز ہو رہا ہے۔

April 12, 2026

کابل میں ترکیہ کے سفارتخانے کے قائم مقام سربراہ سادین آیلدز نے افغانستان کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ اور علاقائی امور پر بات چیت کی گئی۔

ملاقات کے دوران خطے میں جاری تبدیلیوں اور چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں فریقین نے علاقائی استحکام اور سفارتی روابط کو مزید بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکیہ اور افغانستان کے درمیان روابط کو موجودہ علاقائی تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے، جہاں مختلف ممالک کے درمیان مشاورت کا سلسلہ تیز ہو رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کی ملاقاتیں خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور مستقبل کے ممکنہ تعاون کی عکاسی کرتی ہیں۔

دیکھئیے:گوادر واقعہ: گمراہ کن بیانیہ زیر گردش؛ حکام کا غیر مصدقہ دعوؤں سے اجتناب کا انتباہ

متعلقہ مضامین

امریکی صدر ٹرمپ کا بیان فیصلہ کن ہے، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کی واحد وجہ ایران کا جوہری پروگرام پر مؤقف تھا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، مگر ایران نے جوہری معاملے پر کوئی لچک نہیں دکھائی، جس کے باعث حتمی معاہدہ ممکن نہ ہو سکا۔

April 12, 2026

ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی میزبانی اور کردار کو سراہا، اور کہا کہ مذاکرات تقریباً 20 گھنٹے جاری رہے۔

April 12, 2026

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وفد کو الوداع کیا

April 12, 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی پاکستان کے کردار اور میزبانی کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان نے مثبت اور متوازن کردار ادا کیا۔

April 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *