ضلع خیبر کے علاقے آدم خیل میں سکیورٹی فورسز کی ٹارگٹڈ کاروائی کے دوران اہم کمانڈرز سمیت 5 دہشت گرد ہلاک اور 7 زخمی ہو گئے۔

May 6, 2026

افغانستان میں طالبان کی نسلی اجارہ داری اور خواتین کے بنیادی حقوق کی پامالی نے ملک کو ایک نئے داخلی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں بدخشاں سے پنجشیر تک مزاحمت کی نئی لہریں جنم لے رہی ہیں۔

May 6, 2026

ایران نے متحدہ عرب امارات پر حملوں کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا اور کسی بھی کاروائی کا سخت جواب دیا جائے گا۔

May 6, 2026

بلوچستان کے ضلع ژوب میں دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل خالد حسین نے جامِ شہادت نوش کر لیا۔

May 6, 2026

ٹرمپ نے پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر ایران کے خلاف پروجیکٹ فریڈم عارضی طور پر روکنے کا اعلان کرتے ہوئے تہران سے معاہدے کے قریب پہنچنے کا عندیہ دیا ہے۔

May 6, 2026

دوستم نے ویڈیو بیان میں شمالی افغانستان کے نوجوانوں کو اتحاد کی تلقین کرتے ہوئے خبردار کیا کہ بروقت اقدام نہ کیا گیا تو خطے کی تاریخ، ثقافت اور زبان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

May 6, 2026

ملتے ہیں اگلے “حادثے” کے بعد

عوام اب تھک چکے ہیں۔ انہیں نعروں، بیانیوں اور ٹی وی مباحث کی گردان نہیں چاہیے۔ انہیں محفوظ سڑکیں، مضبوط عمارتیں، فعال فائر بریگیڈ، احساس اور جواب دہی پر مبنی نظام چاہیے۔ انہیں یہ یقین چاہیے کہ گھر سے نکلنے والا بچہ شام کو زندہ واپس آئے گا، اور گھر میں رہے گا تو چھت نہیں گرے گی۔
ملتے ہیں اگلے "حادثے" کے بعد

پارلیمان کی خاموشی اس پورے منظرنامے کا سب سے تلخ باب ہے۔ جس شہر کراچی سے ملک کا بڑا ریونیو آتا ہے، وہی شہر آگ، ملبے اور لاشوں کا قبرستان بن چکا ہے۔ روشنیوں کے شہر کا تعارف اب بھتہ خوری، چائنا کٹنگ، فرقہ واریت، لسانی دہشت گردی، بلڈر مافیا، ٹینکر مافیا، لینڈ گریبرز اور قبضہ مافیا بن چکا ہے۔

January 23, 2026

پاکستان کے کسی بھی بڑے شہر کی کسی شاہراہ پر کھڑے ہو کر اگر آپ اردگرد کا جائزہ لیں تو آپ کو بلند و بالا عمارتوں کے سائے میں سسکتا ہوا ایک ایسا انفراسٹرکچر نظر آئے گا جو اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ لیکن المیہ یہ نہیں کہ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں یا عمارتیں بوسیدہ ہیں، المیہ یہ ہے کہ اس کھنڈر پر کھڑے ہو کر ہمارے شعبدہ باز “بیانیوں کی جنگ” لڑ رہے ہیں۔ یہاں انسانی جان کی قیمت ایک “بریکنگ نیوز” سے زیادہ نہیں، اور پارلیمان کی خاموشی اس بات کی گواہ ہے کہ ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کا عوامی مسائل سے تعلق صرف ووٹ کی پرچی تک محدود رہ گیا ہے۔

کراچی بڑا جی دار شہر ہے لیکن آپ کراچی میں کھڑے ہو کر اپنے دائیں بائیں نگاہ دوڑائیں تو یوں لگتا ہے جیسے شہر نہیں، ایک زخمی جسم ہو، جس پر شیشے کی عمارتوں کا میک اپ تو ہے مگر اندر سے سب کچھ بکھر چکا ہے۔ سڑکوں کی سانسیں ٹوٹ رہی ہیں، عمارتیں ڈول رہی ہیں اور بجلی کے تار موت کے پیغام کی طرح سر پر لٹک رہے ہیں۔

کراچی کے گل پلازہ میں لگی آگ ہو، کہیں کوئی پل گر جائے یا ٹرین کا کوئی ہولناک حادثہ، ہمارے بیانیہ ماسٹر موقع کا فائدہ اٹھاتے ہی چوک میں اپنے اوزار کس کر الزام تراشی کا سرکس لگا دیتے ہیں۔ پاکستان میں المیے اب سوگ منانے کے لیے نہیں بلکہ سیاست چمکانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ابھی لاشوں سے دھواں اٹھ رہا ہوتا ہے، ابھی لواحقین کی چیخیں فضا میں معلق ہوتی ہیں کہ اسکرینز پر گدھ جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

ایک پارٹی دوسری پر “انتظامی نااہلی” کا ملبہ ڈالتی ہے تو دوسری پارٹی اسے “گزشتہ دہائیوں کا گند” قرار دے کر دامن جھاڑ تے ہوئے صافہ کندھے پر رکھ کر پتلی گلی سے نکل جاتی ہے۔ یہ الزام تراشی کا وہ گھناؤنا کھیل ہے جو برسوں سے جاری ہے۔ اس شور میں تحقیقات اور انصاف ہمیشہ کہیں دب کر مر جاتے ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹیاں بنتی ہیں، فوٹو سیشن ہوتے ہیں، تعزیتی بیانات ٹویٹ کیے جاتے ہیں اور پھر سب خاموشی سے اگلے کسی بڑے حادثے کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ یہاں نظام کو ٹھیک کرنے کی فکر کسی کو نہیں، بس اس بات کی فکر ہے کہ اس حادثے کا ملبہ کس کے سر پر ڈال کر سیاسی فائدہ سمیٹا جا سکتا ہے۔

اب کیا لفظوں کی جگالی کی جائے، بس تکرار یہی ہے کہ کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کوئی اچانک نازل ہونے والی آفت نہیں تھی۔ یہ برسوں کی مجرمانہ غفلت، انتظامی بے حسی اور منافع کی ہوس کا منطقی انجام تھا۔ ایک ایسی عمارت جس میں نہ آگ بجھانے کا مؤثر نظام تھا، نہ ہنگامی راستے، نہ حفاظتی اجازت ناموں کی حقیقی جانچ پڑتال کی کوئی کہانی، یہ عمارت دن کے اجالے میں کاروبار کا مرکز بنی رہی اور رات کے اندھیرے میں انسانی راکھ کا ڈھیر بن گئی۔ درجنوں زندگیاں ختم ہو گئیں، سینکڑوں خواب جل گئے اور ریاستی نظام حسبِ روایت فائلوں، بیانات اور تحقیقات کے درمیان کہیں گم ہو گیا۔ لاشیں ٹھنڈی ہونے سے پہلے الزام اور بیان کا کھیل شروع ہو گیا، اور اس شور میں وہ مزدور، وہ دکاندار، وہ باپ، وہ بیٹا کہیں کھو گیا جس کی زندگی کی جمع پونجی ایک لمحے میں راکھ بن گئی۔ یہاں حادثہ اب صدمہ نہیں رہا بلکہ ایک موقع بن چکا ہے، ٹی وی اسکرین پر آنے کا، ٹرینڈ بنانے کا اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا۔

ریاست کا چوتھا ستون، میڈیا، اب صرف “پاور کوریڈورز” کی چاپلوسی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ عوام کے بنیادی مسائل، پینے کا صاف پانی، ٹوٹی سڑکیں، اسکولوں کی بدحالی اور اسپتالوں میں بستروں کی کمی، جعلی اور مہنگی ادویات کا مسئلہ اب میڈیا کے لیے “ریٹنگ” کا سامان نہیں رہا۔ میڈیا ہاؤسز کی ترجیحات دیکھیں تو دنگ رہ جائیں گے۔ گھنٹوں اس بات پر بحث ہوگی کہ کس لیڈر نے کس کو کیا طعنہ دیا، کس کی آڈیو لیک ہوئی یا کس کا بیانیہ کس پر بھاری رہا۔ لیکن اس ماں کی دہائی کوئی نہیں دکھاتا جس کا بچہ اسکول جاتے ہوئے کھلے گٹر میں گر کر مر گیا۔ اس باپ کا انٹرویو کوئی نہیں کرتا جو مہنگائی اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دب کر خودکشی کر لیتا ہے۔

عوام کے حقیقی درد کو سنسنی خیزی کی نذر کر دیا گیا ہے۔ میڈیا اب عوامی ترجمان نہیں بلکہ بیانیوں کی فیکٹری بن چکا ہے جہاں سچائی کو مفادات کے رنگ میں رنگ کر پیش کیا جاتا ہے۔ عوامی المیے کو بریکنگ نیوز بنا کر بیچ دیا جاتا ہے مگر اس نظام کے خلاف کوئی مستقل سوال، کوئی منظم دباؤ، کوئی سنجیدہ مہم نظر نہیں آتی۔

پارلیمان کی خاموشی اس پورے منظرنامے کا سب سے تلخ باب ہے۔ جس شہر کراچی سے ملک کا بڑا ریونیو آتا ہے، وہی شہر آگ، ملبے اور لاشوں کا قبرستان بن چکا ہے۔ روشنیوں کے شہر کا تعارف اب بھتہ خوری، چائنا کٹنگ، فرقہ واریت، لسانی دہشت گردی، بلڈر مافیا، ٹینکر مافیا، لینڈ گریبرز اور قبضہ مافیا بن چکا ہے۔ ہمارے ایوانوں میں مراعات، پروٹوکول اور سیاسی برتری پر تو گرما گرم بحث ہوتی ہے مگر شہریوں کی جان کے تحفظ پر سنجیدہ قانون سازی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ قومی اسمبلی کے ایک دن کے اجلاس پر کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں مگر شہری حادثات پر بس ایک تعزیتی قرارداد کافی سمجھی جاتی ہے۔ کراچی والے تو ایک ہی بات کہتے ہیں کہ “بھائی، سارا نظام سسٹم چلا رہا ہے”۔

کراچی کا بلدیاتی نظام ایک ایسی لاش بن چکا ہے جس کا مدت سے اٹھا جنازہ گورکن اور تدفین کا منتظر ہے۔ اختیارات کی جنگ، وسائل کا رونا اور ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کا کھیل، یہ سب مل کر ایک ایسے شہر کو چلا رہے ہیں جو ہر نئے دن کے ساتھ زیادہ خطرناک بنتا جا رہا ہے۔ یہاں عمارتیں نہیں، حادثوں کی بنیادیں رکھی جاتی ہیں۔ یہاں نقشے نہیں، قبریں تیار ہوتی ہیں۔ ہم بطور معاشرہ اس سب کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہمیں حیرت نہیں ہوتی، ہمیں صدمہ نہیں لگتا۔ ہم ذہنی طور پر تیار بیٹھے ہوتے ہیں کہ کہیں آگ لگے گی، کہیں پل گرے گا، کہیں چھت آ گرے گی۔ ہم نے موت کو معمول اور زندگی کو”سیاست” کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

عوام اب تھک چکے ہیں۔ انہیں نعروں، بیانیوں اور ٹی وی مباحث کی گردان نہیں چاہیے۔ انہیں محفوظ سڑکیں، مضبوط عمارتیں، فعال فائر بریگیڈ، احساس اور جواب دہی پر مبنی نظام چاہیے۔ انہیں یہ یقین چاہیے کہ گھر سے نکلنے والا بچہ شام کو زندہ واپس آئے گا، اور گھر میں رہے گا تو چھت نہیں گرے گی۔

یہ وقت بیانیہ بنانے کا نہیں، نظام بدلنے کا ہے۔ اگر آج بھی بلڈر مافیا، انتظامی کرپشن اور “سیاسی” بے حسی کے خلاف اجتماعی فیصلہ نہ کیا گیا تو گل پلازہ کوئی آخری سانحہ نہیں ہوگا۔ حادثے ہوتے رہیں گے، بیانیے بنتے رہیں گے،جنازے اٹھتے رہیں گے . یتیموں ، بیواؤں اور بے روز گاروں کے لشکر جنم لیتے رہیں گے . تاریخ پھر یہ نہیں پوچھے گی کہ آپ کا بیانیہ کیا تھا، وہ صرف یہ دیکھے گی کہ لاشوں کے ڈھیر میں آپ کہاں کھڑے تھے۔ ملتے ہیں اگلے “حادثے” کے بعد

متعلقہ مضامین

ضلع خیبر کے علاقے آدم خیل میں سکیورٹی فورسز کی ٹارگٹڈ کاروائی کے دوران اہم کمانڈرز سمیت 5 دہشت گرد ہلاک اور 7 زخمی ہو گئے۔

May 6, 2026

افغانستان میں طالبان کی نسلی اجارہ داری اور خواتین کے بنیادی حقوق کی پامالی نے ملک کو ایک نئے داخلی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں بدخشاں سے پنجشیر تک مزاحمت کی نئی لہریں جنم لے رہی ہیں۔

May 6, 2026

ایران نے متحدہ عرب امارات پر حملوں کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا اور کسی بھی کاروائی کا سخت جواب دیا جائے گا۔

May 6, 2026

بلوچستان کے ضلع ژوب میں دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل خالد حسین نے جامِ شہادت نوش کر لیا۔

May 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *