کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے نام نہاد آپریشن ہیروف 2.0 کے تحت مجید بریگیڈ سے وابستہ پہلی خاتون خودکش حملہ آور حوا بلوچ کی تصویر جاری کر دی، جبکہ ایک اور خاتون عاصفہ مینگل کے حوالے سے بھی دعویٰ سامنے آیا ہے

February 2, 2026

افغان عہدیدار عبد الرحمن عطاش سے منسوب سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے بلوچستان میں بی ایل اے کے حملوں کی حمایت اور پاکستان مخالف پیغامات شائع کیے، جس پر پاکستان نے شدید تشویش ظاہر کی ہے

February 2, 2026

افغان سفیر کے مطابق کابل اور ماسکو کے مابین براہِ راست پروازیں بڑھانے کے لیے نئی کوششیں جاری ہیں، جس سے تاجروں، طلبہ، مریضوں اور سیاحوں کے لیے سفری سہولتیں بہتر ہوں گی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی روابط مضبوط ہوں گے

February 2, 2026

مقامی ذرائع کے مطابق کشیدگی ایئر اسٹرپ کی نگرانی کے اختیارات پر پیدا ہوئی، جس میں قندھاری اور مقامی محافظ دستوں کے درمیان شدید ہوائی فائرنگ ہوئی

February 2, 2026

قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر دو روزہ پہلے سرکاری دورے پر کل پاکستان پہنچ رہے ہیں، جہاں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور دوطرفہ مذاکرات کے دوران تجارت، لاجسٹکس اور علاقائی روابط پر تعاون بڑھانے پر غور کیا جائے گا

February 2, 2026

حکومتِ بلوچستان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی، قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے پیشِ نظر کیے جا رہے ہیں۔ ریاست دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

February 1, 2026

یومِ سیاہ: 27 اکتوبر 1947 سے کشمیریوں کی ناقابلِ تسخیر جدوجہد

سات دہائیوں سے زائد گزرنے کے باوجود راہِ وفا کے مسافر اپنی آزادی و خودمختاری کے لیے میدانِ عمل میں ہیں اور بھارتی جبر و استبداد کے باوجود استقامت پر قائم ہیں
سات دہائیوں سے زائد گزرنے کے باوجود راہِ وفا کے مسافر اپنی آزادی و خودمختاری کے لیے میدانِ عمل میں ہیں اور بھارتی جبر و استبداد کے باوجود استقامت پر قائم ہیں

یومِ سیاہ کے موقع پر کشمیری عوام سے پاکستان نے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کشمیریوں کی حقِ ارادیت کے لیے ایک مرتبہ پھر آواز بلند کی ہے

October 27, 2025

دُنیا بھر میں مقیم کشمیری عوام 27 اکتوبر یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ دن تاریخِ کشمیر کا ایک ایسا سیاہ باب ہے جب بھارتی فوج نے سرینگر پر چڑھائی کر کے ریاست کی خودمختاری سلب کر لی۔ یہ دن محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ تاریخِ انسانی کا وہ بدترین دن ہے جس دن کشمیری عوام کی آزادی کو سلب کیا گیا۔ 1947 سے لیکر آج تک کشمیری عوام اقوامِ عالم سے اپنا مطالبہ دہراتی چلی آرہی ہے مگر سات دہائیوں کے باوجود بھی نہ تو کشمیری عوام کو انکا حق مل سکا اور نہ ہی بھارتی جبر و استبداد میں کمی آسکی۔


حقائق کی رو سے دیکھا جائے تو بھارت نے تقسیمِ ہند کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے الحاق نامے کے بہانے ریاست جموں و کشمیر پر اپنی افواج مسلّط کیں جبکہ کشمیر کے باسی اس سے قبل ہی اپنا فیصلہ کر چکے تھے۔ 19 جولائی 1947 کو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے قراردادِ الحاق پاکستان منظور کی تھی جو کشمیری عوام کی دلوں کی ترجمانی اور کشمیر کی پاکستان سے قربت کی واضح دلیل تھی۔

اس کے بعد 24 اکتوبر 1947 کو کشمیری عوام نے بھارتی جارحیت کے خلاف آزادی کا علم بلند کرتے ہوئے جونجال ہل کے مقام پر آزاد حکومت کے قیام کا اعلان کیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً چار ہزار مربع میل بھارتی تسلط سے آزاد کروا لیا جسے دنیا آج آزاد جموں و کشمیر کے نام سے جانتی ہے۔ جب بھارت نے 27 اکتوبر کو اپنی فوج سرینگر میں اتاریں تو یہ عمل نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر مشتمل تھا بلکہ ایک ایسی ریاست کے خلاف جارحیت تھی جس نے اپنی سمت متعین کرتے ہوئے فیصلہ بھی سنا دیا تھا۔

بھارت نے نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی کی بلکہ تقسیمِ ہند اور عالمی قوانین کو پیروں تلے روندتے ہوٗے اپنے جبر و استبداد کو آئینی راستہ فراہم کرنے کے لیے پی ایس اے اور اے ایف پی ایس اے جیسے قوانین نافذ کیے جس کے نتیجے میں ریاست جموں و کشمیر کو عقوبت خانہ بنا ڈالا۔ مگر دوسری جانب بھارتی سفاکیت کے باوجود کشمیری عوام کے قلوب و اذہان میں آزدی کی شمع روشن رہی۔ بھارتی انسانیت سوز مظالم کے باوجود آزادی کے متوالے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے باوجود میدانِ عمل میں رہے اور صرف یہی نہیں بلکہ ایک گھر سے متعدد شہادتیں، گرفتاریاں اور پابندِ سلاسل ہونے کے باوجود بھی عزیمت کو گلے لگایا۔

آج ستر سال سے زائد گزرنے کے باوجود راہِ وفا کے مسافر آزادی کے لیے میدانِ عمل میں ہیں اور بھارتی جبر میں پس رہے ہیں۔ دیکھا جاٗے تو تحریک آزادی کے مؤقف میں اٹھتر سال گزرنے کے باوجود نرمی نہیں آئی بلکہ روزِ اول سے جس مؤقف پر قائم تھے آج بھی اسی پر چٹان کی طرح مضبوط کھڑے ہیں۔

ہر تحریک میں سب سے اہم کردار قیادت ہوتا ہے کشمیر کی قیادت پر ایک طائرانہ نظر دوڑائی جاٗے تو ہر دور میں ایسی جری قیادت میدان عمل میں رہی کہ جس نے بھارتی جارحیت و سفاکیت کے سامنے جھکنے کے بجائے آزادی کا علم بلند کیا جن میں شیخ عبداللہ، میر واعظ مولوی یوسف شاہ، سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، یاسین ملک، شبیر شاہ سمیت سینکڑوں گمنام مجاہد ہیں۔ ہر دور میں قیادت نے مختلف انداز و طریقہ کار اختیار کیے کبھی سیاسی، کبھی سفارتی، کبھی عوامی تحریک کی صورت میں مگر مؤقف ہمیشہ واضح رہا کہ کشمیر کی آزادی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔


دیکھا جائے تو اقوامِ متحدہ نے 1948 کے بعد سے نو سال تک یعنی 1957 تک ایسی بارہ قراردادیں منظور کیں جن میں واضح طور پر مذکور تھا کہ یاست جموں و کشمیر کا مستقبل عوام کی آزادانہ رائے سے طے ہو گا مگر ہمیشہ اسکے برعکس ہوا۔ عالمی برادری کا مجرمانہ سُکوت اور اقوامِ متحدہ کی رسمی قراردادیں مظلوم کشمیریوں پر جاری ظلم و ستم نہ رکواسکیں اور نام نہاد انسانی حقوق تنظیموں کی پُراسرار خاموشی بھی افسوسناک ہے۔ مگر دوسری جانب پاکستان نے روزِ اول سے کشمیر کے حق میں صدا بند کی ہے اور آج یومِ سیاہ کے موقع پر پاکستان نے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کی حقِ ارادیت کے لیے ایک مرتبہ پھر اپنا عزم دہرایا ہے۔

دیکھیں: وزارتِ امور کشمیر کا 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ

متعلقہ مضامین

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے نام نہاد آپریشن ہیروف 2.0 کے تحت مجید بریگیڈ سے وابستہ پہلی خاتون خودکش حملہ آور حوا بلوچ کی تصویر جاری کر دی، جبکہ ایک اور خاتون عاصفہ مینگل کے حوالے سے بھی دعویٰ سامنے آیا ہے

February 2, 2026

افغان عہدیدار عبد الرحمن عطاش سے منسوب سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے بلوچستان میں بی ایل اے کے حملوں کی حمایت اور پاکستان مخالف پیغامات شائع کیے، جس پر پاکستان نے شدید تشویش ظاہر کی ہے

February 2, 2026

افغان سفیر کے مطابق کابل اور ماسکو کے مابین براہِ راست پروازیں بڑھانے کے لیے نئی کوششیں جاری ہیں، جس سے تاجروں، طلبہ، مریضوں اور سیاحوں کے لیے سفری سہولتیں بہتر ہوں گی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی روابط مضبوط ہوں گے

February 2, 2026

مقامی ذرائع کے مطابق کشیدگی ایئر اسٹرپ کی نگرانی کے اختیارات پر پیدا ہوئی، جس میں قندھاری اور مقامی محافظ دستوں کے درمیان شدید ہوائی فائرنگ ہوئی

February 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *