مقبوضہ جموں کشمیر کو خطے میں زلزلے کے شدید ترین خطرے والے زون میں شامل کر لیا گیا ہے، تاہم اس سنگین صورتحال کے باوجود قابض انتظامیہ کی جانب سے عوامی تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے کوئی عملی اقدامات سامنے نہیں آئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا، راجیہ سبھا میں وزارتِ داخلہ نے ایک تحریری سوال کے جواب میں اعتراف کیا ہے کہ وادی کشمیر بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز کی درجہ بندی کے مطابق ‘سسمک زون 5’ میں آتی ہے۔ یہ زمرہ زلزلہ شماریات میں سب سے زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے، جہاں کسی بھی وقت شدید نوعیت کا زلزلہ بڑے پیمانے پر جانی و مالی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
بھارتی حکومت نے ایوان میں یہ حقیقت بھی تسلیم کی ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی واضح ہدایات کے باوجود جموں کشمیر میں اب تک اسکولوں، ہسپتالوں اور اہم سرکاری عمارتوں کی ‘ریٹرو فٹنگ’ نہیں کی گئی۔ ماہرین کے مطابق ریٹرو فٹنگ زلزلوں کے دوران نقصانات کو کم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے، مگر مقبوضہ علاقے میں اس اہم ترین ضرورت کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ خطے میں نہ تو کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں اور نہ ہی زلزلے کی قبل از وقت وارننگ فراہم کرنے والا کوئی جدید نظام نصب کیا گیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد مقبوضہ علاقے میں انفراسٹرکچر کی کمزوری اور لاکھوں انسانی جانوں کی سلامتی سے متعلق شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جبکہ مقامی حلقوں نے اسے قابض حکومت کی مجرمانہ غفلت قرار دیا ہے۔