...
برطانوی اور امریکی رپورٹس کے مطابق ابو زبیدہ کو دورانِ حراست 83 مرتبہ واٹر بورڈنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں نیند سے محروم رکھا گیا، شدید مار پیٹ کی گئی، اور 11 دن تک تابوت نما تنگ ڈبے میں بند رکھا گیا۔ سی آئی اے کی حراست کے دوران ان کی ایک آنکھ بھی ضائع ہو گئی۔

January 14, 2026

ایران میں دو ہفتے تک جاری مظاہرے ختم ہو گئے، ملک کے بیشتر حصوں میں امن و امان اور بین الاقوامی کالز بحال جبکہ انٹرنیٹ تاحال بند ہے

January 14, 2026

افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی اور یو این اے ایم اے کی قائم مقام سربراہ جارجٹ گیگنن کے مابین ملاقات میں دوحہ عمل کے تحت ورکنگ گروپس کی پیش رفت، انسداد منشیات اور نجی شعبے کی معاونت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا

January 14, 2026

آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ کی تیاری کے لیے آسٹریلوی ٹیم 27 جنوری کو پاکستان پہنچ سکتی ہے، جہاں لاہور میں تین میچوں کی سیریز کے لیے پی سی بی نے تین ممکنہ شیڈول آسٹریلیا کو بھیجے ہیں

January 14, 2026

نیا ٹیل کے مطابق مرمت کا عمل دوپہر تقریباً دن 2 بجے سے شروع ہوتے ہوئے تقریباً آٹھ گھنٹے تک جاری رہے گا۔ اس دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے

January 14, 2026

یومِ حقِ خودارادیت: کشمیری عوام کی جدوجہد کا استعارہ

یومِ حقِ خودارادیت: کشمیری عوام کی جدوجہد کا استعارہ

یومِ حقِ خودارادیت کے موقع پر پاکستان میں اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کی جانب سے منعقدہ ریلیاں، سیمینارز اور تقاریب اس عزم کا اظہار ہیں کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

January 5, 2026

پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یومِ حقِ خودارادیت منا رہے ہیں۔ یہ دن محض ایک علامتی تاریخ نہیں بلکہ کشمیری عوام کی اس طویل، پُرعزم اور قربانیوں سے بھرپور جدوجہد کی یاد دہانی ہے جو وہ اپنے بنیادی، فطری اور عالمی طور پر تسلیم شدہ حق ،حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے دہائیوں سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔


اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں واضح طور پر کشمیری عوام کو یہ حق دیتی ہیں کہ وہ آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ تاہم افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان قراردادوں پر آج تک عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں مسلسل فوجی موجودگی، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اظہارِ رائے پر پابندیاں اور آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیریوں کی آواز کو طاقت کے زور پر دبایا جا رہا ہے۔


5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے نے اس تنازع کو مزید سنگین بنا دیا۔ اس یکطرفہ اقدام نے نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی بلکہ کشمیری عوام کے اعتماد اور امن کی امیدوں کو بھی شدید دھچکا پہنچایا۔ طویل کرفیو، مواصلاتی بندشیں اور سیاسی قیادت کی گرفتاریوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ مسئلے کا حل طاقت میں نہیں بلکہ انصاف اور مکالمے میں پوشیدہ ہے۔


یومِ حقِ خودارادیت کے موقع پر پاکستان میں اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کی جانب سے منعقدہ ریلیاں، سیمینارز اور تقاریب اس عزم کا اظہار ہیں کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ یہ دن عالمی برادری کے لیے بھی ایک سوالیہ نشان ہے کہ کیا انسانی حقوق صرف نعروں تک محدود رہیں گے یا ان پر عملی اقدام بھی کیا جائے گا؟

پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھی ہے اور یہ حمایت اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک کشمیریوں کو ان کا جائز حق نہیں مل جاتا۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض تشویش کے بیانات پر اکتفا نہ کریں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے کشمیری عوام کو انصاف دلائیں۔


آخر میں، یومِ حقِ خودارادیت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔ جب تک کشمیری عوام کو اپنی مرضی کے مطابق مستقبل کے انتخاب کا حق نہیں دیا جاتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ آج کا دن اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ کشمیریوں کی آواز دبائی نہیں جا سکتی اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد آخرکار ضرور رنگ لائے گی۔

دیکھیں: بھارتی وزیرِ خارجہ کے الزامات مسترد، دہشت گردی اور کشمیر پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف برقرار

متعلقہ مضامین

برطانوی اور امریکی رپورٹس کے مطابق ابو زبیدہ کو دورانِ حراست 83 مرتبہ واٹر بورڈنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں نیند سے محروم رکھا گیا، شدید مار پیٹ کی گئی، اور 11 دن تک تابوت نما تنگ ڈبے میں بند رکھا گیا۔ سی آئی اے کی حراست کے دوران ان کی ایک آنکھ بھی ضائع ہو گئی۔

January 14, 2026

ایران میں دو ہفتے تک جاری مظاہرے ختم ہو گئے، ملک کے بیشتر حصوں میں امن و امان اور بین الاقوامی کالز بحال جبکہ انٹرنیٹ تاحال بند ہے

January 14, 2026

افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی اور یو این اے ایم اے کی قائم مقام سربراہ جارجٹ گیگنن کے مابین ملاقات میں دوحہ عمل کے تحت ورکنگ گروپس کی پیش رفت، انسداد منشیات اور نجی شعبے کی معاونت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا

January 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.