ملک کی معروف مذہبی سیاسی جماعت نے پاک افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی اور دہشت گردی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وطنِ عزیز کی حرمت اور سرحدوں کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ جماعت کے صدر خالد مسعود سندھو نے اپنے ایک بیان میں فتنۃ الخوارج کے خلاف ‘آپریشن غضب للحق’ کی بھرپور تائید و حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
خالد مسعود سندھو نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں بھی افغانستان میں پناہ گزین دہشت گردوں نے پاکستانی عوام اور افواج کا خون بہایا۔ انہوں نے سنگین الزام عائد کیا کہ افغانستان نے پاکستان پر یہ حملہ اسرائیل اور بھارت کے ایما پر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن افغان بھائیوں کا بوجھ پاکستان نے دہائیوں تک اٹھایا، آج وہی گمراہ ہو کر ان قوتوں کے آلہ کار بن چکے ہیں جنہوں نے ہمیشہ ان کے خلاف جنگ لڑی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج افغان سرزمین کو پاکستان میں خونریزی اور انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ خالد مسعود سندھو کے مطابق افغان حکمرانوں کو چاہیے تھا کہ وہ اپنی آزادی کو فلسطین اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے وقف کرتے، مگر افسوس کہ وہ ہندوتوا کے پیروکار بھارت سے پینگیں بڑھا کر ظلم کا حصہ بن رہے ہیں۔
خالد مسعود نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان افغان عوام کا دشمن نہیں، بلکہ یہ جنگ صرف فتنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افواجِ پاکستان دشمن کو اس کے گھر میں گھس کر سبق سکھانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔