گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کے تناظر میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے مبینہ طور پر خیبر پختونخوا سے کارکنان لانے اور پُرامن سیاسی ماحول کو بیرونی دباؤ کے ذریعے سبوتاژ کرنے کی کوششوں پر شدید عوامی و سیاسی تحفظات سامنے آئے ہیں۔

June 2, 2026

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان کے بیانات اور عمل میں تضاد ہے اور وہ ٹی ٹی پی کے خلاف تحریری ضمانت دینے سے انکاری ہیں، اس لیے ان پر اعتماد خطرناک ہے۔

June 2, 2026

بنوں کے علاقے بکا خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے تفتانِ ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر شاہد عرف کمانڈو کا پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے گہرا تعلق اور ماضی کی وابستگی کے دستاویزی شواہد سامنے آئے ہیں۔

June 2, 2026

سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں لبنان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا۔

June 2, 2026

پاکستان اور چین نے افغان سرزمین سے آپریٹ کرنے والی کالعدم تنظیموں ٹی ٹی پی اور ای ٹی آئی ایم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو مزید تیز اور ہم آہنگ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

June 2, 2026

حزب التحریر ولایتِ افغانستان نے روس کے ساتھ حالیہ عسکری و تکنیکی معاہدے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے امتِ مسلمہ کے مفادات اور ملکی خودمختاری کے منافی قرار دیا ہے۔

June 2, 2026

اب مصلحت نہیں، فیصلہ کُن جواب کا وقت ہے

پاکستان نے دہائیوں تک افغانستان کا بوجھ اٹھایا، مگر کابل نے اسے دہشت گردوں کی پناہ گاہ اور بھارتی کالونی بنا کر جواب دیا۔ وزیر دفاع کا حالیہ بیان اس طویل صبر کے خاتمے اور اب فیصلہ کن جوابی کارروائی کا اعلان ہے
پاکستان نے دہائیوں تک افغانستان کا بوجھ اٹھایا، مگر کابل نے اسے دہشت گردوں کی پناہ گاہ اور بھارتی کالونی بنا کر جواب دیا۔ وزیر دفاع کا حالیہ بیان اس طویل صبر کے خاتمے اور اب فیصلہ کن جوابی کارروائی کا اعلان ہے

خواجہ آصف کے بیان کی روشنی میں افغانستان کا بھارتی پراکسی بننے اور دہشت گردی کی سرپرستی کا احاطہ۔ اب مصلحت نہیں، صرف بھرپور سبق کا وقت ہے

February 27, 2026

وزیر دفاع خواجہ آصف کا افغان طالبان رجیم کو دیا گیا حالیہ پیغام کہ “اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے”، محض ایک بیان نہیں بلکہ ان تمام حقائق کا نچوڑ ہے جنہوں نے ریاستِ پاکستان کو اپنی کئی دہائیوں پر محیط پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ خواجہ آصف نے جس انداز سے اس صورتحال کا نقشہ کھینچا ہے وہ اس صبر کے پیمانے لبریز ہونے کی علامت ہے۔ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں سے افغانستان کے لیے ایک محسن کا کردار ادا کیا، لاکھوں افغان مہاجرین کو اپنی آغوش میں پناہ دی اور عالمی تنہائی کے ہر کٹھن دور میں کابل کا سہارا بنے، مگر افسوس کہ اس بے مثال ایثار کے بدلے میں پاکستان کو ہمیشہ لہو اور بے وفائی ہی ملی ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق افغانستان آج عملاً ہندوستان کی ایک ‘کالونی’ کا منظر پیش کر رہا ہے، جو کہ خطے کے امن کے لیے ایک ہولناک صورتحال ہے۔ کابل کی موجودہ انتظامیہ نے اپنی خود مختاری کا سودا کرتے ہوئے افغانستان کی سرزمین نئی دہلی کے حوالے کر دی ہے، جہاں سے اب پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیوں کا جال بنا جاتا ہے۔

جب کسی ملک کے فیصلے اس کے اپنے مفادات کے بجائے کسی دشمن ریاست کی ایماء پر ہونے لگیں، تو وہ آزاد ریاست نہیں بلکہ ایک ‘کالونی’ اور ‘پراکسی’ بن کر رہ جاتی ہے۔ خواجہ آصف کا یہ مؤقف حقیقت پر مبنی ہے کہ کابل نے اپنی جڑیں دہلی سے منسلک کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ برادر پڑوسی ملک کے بجائے ایک آلہ کار بننے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔

افغانستان آج ایسی آماجگاہ بن چکا ہے جہاں دنیا بھر کے دہشت گردوں کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ وہاں سے دہشت گردی کو باقاعدہ منظم طریقے سے پاکستان کی جانب برآمد کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران کوئٹہ، اسلام آباد اور باجوڑ میں ہونے والے دہشت گردی کے پے در پے لرزہ خیز واقعات اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ افغان سرپرستی میں پلنے والے عناصر ہماری سالمیت کے درپے ہیں۔ خواجہ آصف نے بجا طور پر نشانہ دہی کی ہے کہ افغان رجیم نے اپنے پڑوسی کے ساتھ غداری کے ساتھ ساتھ خود اپنے عوام کے ساتھ بھی انصاف نہیں کیا، جہاں خواتین کو تعلیم اور بنیادی حقوق سے محروم رکھ کر اسلام کے روشن چہرے کو مسخ کیا جا رہا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ مصلحت، بھائی چارے اور امن کا راستہ اختیار کیا۔ کابل حکام کو بارہا واضح پیغامات دیے گئے، ثبوت فراہم کیے گئے اور ہر سفارتی سطح پر قائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ دہشت گردوں کی سرپرستی سے باز آ جائیں، مگر کابل کی مسلسل ہٹ دھرمی نے ثابت کیا کہ وہ شرافت کی زبان سمجھنے سے قاصر ہیں۔

اب جبکہ پاکستان کا صبر جواب دے چکا ہے، تو وزیر دفاع خواجہ آصف کا یہ اعلانِ جنگ اس عزم کا اظہار ہے کہ اب صرف فیصلہ کن ضرب ہی کابل کے حکام کو خوابِ غفلت سے بیدار کرے گی۔ پاکستانی افواج کی حالیہ کارروائیاں ان عناصر کو بھرپور سبق سکھانے کے لیے کافی ہیں جو پاکستان کے امن کو خاک میں ملانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اب مصلحتوں کا دور بیت چکا، اب صرف ریاست کے دفاع اور بقا کا وقت ہے۔

دیکھیے: اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے؛ خواجہ آصف کا افغان طالبان رجیم کو سخت پیغام

متعلقہ مضامین

گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کے تناظر میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے مبینہ طور پر خیبر پختونخوا سے کارکنان لانے اور پُرامن سیاسی ماحول کو بیرونی دباؤ کے ذریعے سبوتاژ کرنے کی کوششوں پر شدید عوامی و سیاسی تحفظات سامنے آئے ہیں۔

June 2, 2026

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان کے بیانات اور عمل میں تضاد ہے اور وہ ٹی ٹی پی کے خلاف تحریری ضمانت دینے سے انکاری ہیں، اس لیے ان پر اعتماد خطرناک ہے۔

June 2, 2026

بنوں کے علاقے بکا خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے تفتانِ ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر شاہد عرف کمانڈو کا پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے گہرا تعلق اور ماضی کی وابستگی کے دستاویزی شواہد سامنے آئے ہیں۔

June 2, 2026

سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں لبنان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا۔

June 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *