"> اب مصلحت نہیں، فیصلہ کُن جواب کا وقت ہے - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

اب مصلحت نہیں، فیصلہ کُن جواب کا وقت ہے

پاکستان نے دہائیوں تک افغانستان کا بوجھ اٹھایا، مگر کابل نے اسے دہشت گردوں کی پناہ گاہ اور بھارتی کالونی بنا کر جواب دیا۔ وزیر دفاع کا حالیہ بیان اس طویل صبر کے خاتمے اور اب فیصلہ کن جوابی کارروائی کا اعلان ہے
پاکستان نے دہائیوں تک افغانستان کا بوجھ اٹھایا، مگر کابل نے اسے دہشت گردوں کی پناہ گاہ اور بھارتی کالونی بنا کر جواب دیا۔ وزیر دفاع کا حالیہ بیان اس طویل صبر کے خاتمے اور اب فیصلہ کن جوابی کارروائی کا اعلان ہے

خواجہ آصف کے بیان کی روشنی میں افغانستان کا بھارتی پراکسی بننے اور دہشت گردی کی سرپرستی کا احاطہ۔ اب مصلحت نہیں، صرف بھرپور سبق کا وقت ہے

February 27, 2026

وزیر دفاع خواجہ آصف کا افغان طالبان رجیم کو دیا گیا حالیہ پیغام کہ “اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے”، محض ایک بیان نہیں بلکہ ان تمام حقائق کا نچوڑ ہے جنہوں نے ریاستِ پاکستان کو اپنی کئی دہائیوں پر محیط پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ خواجہ آصف نے جس انداز سے اس صورتحال کا نقشہ کھینچا ہے وہ اس صبر کے پیمانے لبریز ہونے کی علامت ہے۔ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں سے افغانستان کے لیے ایک محسن کا کردار ادا کیا، لاکھوں افغان مہاجرین کو اپنی آغوش میں پناہ دی اور عالمی تنہائی کے ہر کٹھن دور میں کابل کا سہارا بنے، مگر افسوس کہ اس بے مثال ایثار کے بدلے میں پاکستان کو ہمیشہ لہو اور بے وفائی ہی ملی ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق افغانستان آج عملاً ہندوستان کی ایک ‘کالونی’ کا منظر پیش کر رہا ہے، جو کہ خطے کے امن کے لیے ایک ہولناک صورتحال ہے۔ کابل کی موجودہ انتظامیہ نے اپنی خود مختاری کا سودا کرتے ہوئے افغانستان کی سرزمین نئی دہلی کے حوالے کر دی ہے، جہاں سے اب پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیوں کا جال بنا جاتا ہے۔

جب کسی ملک کے فیصلے اس کے اپنے مفادات کے بجائے کسی دشمن ریاست کی ایماء پر ہونے لگیں، تو وہ آزاد ریاست نہیں بلکہ ایک ‘کالونی’ اور ‘پراکسی’ بن کر رہ جاتی ہے۔ خواجہ آصف کا یہ مؤقف حقیقت پر مبنی ہے کہ کابل نے اپنی جڑیں دہلی سے منسلک کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ برادر پڑوسی ملک کے بجائے ایک آلہ کار بننے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔

افغانستان آج ایسی آماجگاہ بن چکا ہے جہاں دنیا بھر کے دہشت گردوں کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ وہاں سے دہشت گردی کو باقاعدہ منظم طریقے سے پاکستان کی جانب برآمد کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران کوئٹہ، اسلام آباد اور باجوڑ میں ہونے والے دہشت گردی کے پے در پے لرزہ خیز واقعات اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ افغان سرپرستی میں پلنے والے عناصر ہماری سالمیت کے درپے ہیں۔ خواجہ آصف نے بجا طور پر نشانہ دہی کی ہے کہ افغان رجیم نے اپنے پڑوسی کے ساتھ غداری کے ساتھ ساتھ خود اپنے عوام کے ساتھ بھی انصاف نہیں کیا، جہاں خواتین کو تعلیم اور بنیادی حقوق سے محروم رکھ کر اسلام کے روشن چہرے کو مسخ کیا جا رہا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ مصلحت، بھائی چارے اور امن کا راستہ اختیار کیا۔ کابل حکام کو بارہا واضح پیغامات دیے گئے، ثبوت فراہم کیے گئے اور ہر سفارتی سطح پر قائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ دہشت گردوں کی سرپرستی سے باز آ جائیں، مگر کابل کی مسلسل ہٹ دھرمی نے ثابت کیا کہ وہ شرافت کی زبان سمجھنے سے قاصر ہیں۔

اب جبکہ پاکستان کا صبر جواب دے چکا ہے، تو وزیر دفاع خواجہ آصف کا یہ اعلانِ جنگ اس عزم کا اظہار ہے کہ اب صرف فیصلہ کن ضرب ہی کابل کے حکام کو خوابِ غفلت سے بیدار کرے گی۔ پاکستانی افواج کی حالیہ کارروائیاں ان عناصر کو بھرپور سبق سکھانے کے لیے کافی ہیں جو پاکستان کے امن کو خاک میں ملانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اب مصلحتوں کا دور بیت چکا، اب صرف ریاست کے دفاع اور بقا کا وقت ہے۔

دیکھیے: اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے؛ خواجہ آصف کا افغان طالبان رجیم کو سخت پیغام

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *