فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔ وہ اکتوبر 2024 میں اسرائیلی کارروائی میں شہید ہونے والے یحییٰ السنوار کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
حماس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خلیل الحیہ کا انتخاب تنظیم کے اندرونی انتخابی عمل کے بعد عمل میں آیا۔ انتخابی عمل کے دوسرے مرحلے میں انہوں نے سابق سیاسی سربراہ خالد مشعل کو شکست دی۔
خلیل الحیہ اس سے قبل حماس کی پانچ رکنی قیادتی کونسل کے رکن تھے۔ یہ کونسل 2024 میں یحییٰ السنوار، عسکری کمانڈر محمد الضیف اور اسماعیل ہنیہ سمیت دیگر سینئر رہنماؤں کی شہادت کے بعد تنظیم کے معاملات چلانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔
1960ء میں غزہ میں پیدا ہونے والے خلیل الحیہ 1987ء میں حماس کے قیام سے ہی تنظیم سے وابستہ ہیں۔ حالیہ برسوں میں وہ قطر میں مقیم رہتے ہوئے سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔
وہ اسرائیل، مصر اور امریکہ سمیت مختلف ممالک کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی مذاکرات کے لیے حماس کے وفود کی قیادت بھی کرتے رہے۔
خلیل الحیہ کے خاندان کو بھی اسرائیلی حملوں میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ 2014 میں ان کے بڑے بیٹے اسامہ، بہو اور تین پوتے ایک اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔
گزشتہ سال ستمبر میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں ان کے بیٹے حمام سمیت پانچ افراد بھی شہید ہو چکے ہیں۔