حماس نے انتخابی عمل کے بعد خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔ وہ شہید یحییٰ السنوار کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے، جو اکتوبر 2024 میں اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔
یوں دیکھا جائے تو یہ قیادت کسی عام تنظیمی تبدیلی کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی لڑی کا تسلسل ہے جو خون اور قربانی سے مزین ہے۔ اسماعیل ہنیہ، پھر یحییٰ السنوار اور اب خلیل الحیہ، یہ نام محض عہدوں کی فہرست نہیں بلکہ اس مزاحمت کی علامت ہیں جو ہر شہادت کے بعد ایک نئے چہرے کے ساتھ زندہ ہو جاتی ہے۔ شہدا کا قافلہ جسے دنیا حماس کے نام سے جانتی ہے، اپنے ہر سربراہ کے قتل کے بعد بھی اپنی صف بندی برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے، اور یہی استقامت آج فلسطین کا مان ہے۔
یاد رہے کہ خلیل الحیہ اس سے قبل حماس کی پانچ رکنی قیادتی کونسل کے رکن تھے، جو 2024 میں یحییٰ السنوار، عسکری کمانڈر محمد الضیف اور اسماعیل ہنیہ سمیت دیگر سینئر رہنماؤں کی شہادت کے بعد تنظیم کے معاملات چلانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ اس سے قبل اگست سے اکتوبر 2024 تک وہ حماس کے سیاسی بیورو کے نائب چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، جہاں انہوں نے شہید صالح العاروری کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔
خلیل الحیہ 5 نومبر 1960کو غزہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے بیچلر آف آرٹس، اردن یونیورسٹی سے ماسٹر آف آرٹس اور پھر ڈاکٹر آف فلاسفی کی ڈگری حاصل کی۔ بیچلر کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہی وہ حماس میں شامل ہوئے اور کچھ عرصہ بطور استاد جز وقتی تدریس بھی کرتے رہے۔
سیاسی میدان میں خلیل الحیہ کا سفر دہائیوں پر محیط ہے۔ فروری 2006 سے وہ غزہ شہر کے نمائندے کے طور پر فلسطینی قانون ساز کونسل میں خدمات انجام دیتے رہے۔ انہیں حماس کے سابق رہنما یحییٰ السنوار کا قریبی اور قابلِ اعتماد ساتھی سمجھا جاتا تھا۔
حالیہ برسوں میں خلیل الحیہ قطر میں مقیم رہتے ہوئے حماس کے سفارتی محاذ اور خارجہ امور کے نگران کی حیثیت سے سامنے آئے۔ وہ اسرائیل، مصر اور امریکہ سمیت مختلف ممالک کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی مذاکرات کے لیے حماس کے وفود کی قیادت کرتے رہے، اور عرب دنیا سمیت دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ اپنے گہرے روابط کے باعث حماس کا ایک نمایاں اور طاقتور عالمی چہرہ بن کر ابھرے۔
تاہم یہ سفارتی مقام انہیں سستا نہیں ملا۔ 9 ستمبر 2025 کو قطر میں ایک فضائی حملے میں خلیل الحیہ سمیت حماس کے دیگر رہنما اسرائیل کی جانب سے کی گئی قتل کی کوشش میں بال بال بچے تھے، تاہم اسی حملے میں ان کے بیٹے حمام سمیت پانچ افراد شہید ہو گئے۔
خلیل الحیہ کا خاندان اس سے قبل بھی اسرائیلی جارحیت کا شکار ہو چکا ہے۔ 2014 میں ان کے بڑے بیٹے اسامہ، بہو اور تین پوتے ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ یوں ان کی ذاتی زندگی بھی اسی قربانی کی داستان کا حصہ ہے جو پوری فلسطینی قوم کا نصیب بن چکی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اور ایرانی رہنماؤں کے خلاف مسلسل ہدفی کارروائیوں کی پالیسی کے باعث حماس کی متعدد اعلیٰ قیادت پہلے ہی شہید ہو چکی ہے، جبکہ 2026 میں مزید رہنماؤں پر حملوں کا خدشہ بھی موجود ہے۔ ایسے حالات میں خلیل الحیہ کی قیادت میں حماس کی صف بندی برقرار رہنا اس بات کا مظہر ہے کہ یہ تحریک محض چند شخصیات پر منحصر نہیں بلکہ ایک نظریے پر قائم ہے، جو ہر شہادت کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔