ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کو بے وقعت اور بے معنی قرار دے دیا اور واشنگٹن پر شدید تنقید کی ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کی بار بار خلاف ورزی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صدر کے دستخط کی کوئی افادیت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مفاہمت کی حالیہ یادداشت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ امریکی وعدے قابلِ اعتبار نہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا کہ امریکی رویے سے واضح ہوتا ہے کہ اس میں غنڈہ گردی، تسلط اور وحشی پن کارفرما ہے۔ انہوں نے امریکہ کو ایک بار پھر شیطانِ بزرگ کا خطاب دے دیا اور کہا کہ جرائم اور وعدہ خلافیوں کی یہ تاریخ امریکی بددیانتی، ناقابلِ اعتباریت اور اخلاقی پستی کا ٹھوس ثبوت ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی عروج پر ہے۔ امریکی فوج مسلسل آٹھویں رات ایران پر حملے کر چکی ہے، جبکہ اردن میں ایرانی جوابی حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک اور ایک لاپتہ ہو چکا ہے۔
دونوں ممالک کے مابین رواں سال اپریل اور جون میں طے پانے والی جنگ بندیوں کے باوجود تصادم میں کمی نہیں آ سکی۔