پاکستان کا آئین محض ایک دستاویز نہیں بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کردہ ایک مقدس عہد نامہ ہے۔ دستورِ پاکستان کی بنیاد ‘قراردادِ مقاصد’ پر رکھی گئی ہے، جو اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ پوری کائنات پر حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اور ریاستِ پاکستان اپنے اختیارات کو اللہ کی تفویض کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے عوامی نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔ آئین کی دفعہ 2 پاکستان کو ایک ‘اسلامی جمہوریہ’ قرار دیتی ہے، جبکہ دفعہ 227 اس بات کی مکمل ضمانت فراہم کرتی ہے کہ ملک میں کوئی بھی ایسا قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو قرآن و سنت کے منافی ہو۔ ایسی ریاست کے خلاف، جس ائین و قانون شریعتِ محمدی ﷺ کے اصولوں پر قائم ہو، مسلح خروج یا بغاوت کرنا شرعی طور پر بدترین فتنہ اور فساد ہے۔
فتنہ الخوارج کا سب سے بڑا حملہ ریاست کی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی سفارت کاری پر ہوتا ہے، جسے وہ ‘غداری’ قرار دے کر نوجوانوں کے اذہان میں زہر گھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاریخی شواہد اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ اسلام قیامِ امن کے لیے سفارت کاری اور حفاظتی اقدامات کی مکمل اجازت دیتا ہے۔ 11 ستمبر کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی تزویراتی شراکت داریاں کسی غیر ملکی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ اپنی سرحدوں اور عوام کے تحفظ کے لیے کیے گئے ‘خود مختار آئینی فیصلے’ تھے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی سے صلحِ حدیبیہ جیسی مثالیں موجود ہیں، جسے بظاہر مشکل شرائط کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ‘فتحِ مبین’ قرار دیا۔ خوارج ان نبوی اصولوں کو نظر انداز کر کے غیر قانونی تشدد کو شرعی لبادہ پہنانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
دینِ اسلام امن کا علمبردار ہے جو دہشت گردی اور بے گناہ شہریوں کے قتل کو ‘فساد فی الارض’ قرار دیتے ہوئے اس کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ قرآن حکیم کی سورہ المائدہ میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ فتنہ الخوارج کا فکری انحراف اس قدر سنگین ہے کہ وہ احادیثِ مبارکہ کی ان سخت وعیدوں کو بھی فراموش کر دیتے ہیں جو مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والوں کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد جھوٹے مذہبی بیانیے کے تحت تشدد کو رواج دینا، معاشرے میں انارکی پھیلانا اور پاکستان کے استحکام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانا ہے۔
قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ریاستِ پاکستان ہمیشہ قانون کی حکمرانی اور استحکام کے لیے کوشاں رہی ہے، جبکہ فتنہ الخوارج کی جانب سے آئینی حیثیت کو چیلنج کرنا درحقیقت ملک کی اسلامی بنیادوں کو کمزور کرنے کی ایک منظم سازش ہے۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستانی عوام اس فتنے کے فکری اور گمراہ کن جال سے مکمل طور پر آگاہ رہیں۔ آئینِ پاکستان کی اسلامی حیثیت اور اس کے ثمرات کو علمی سطح پر اجاگر کرنا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ اسلام کے پرامن اور قانونی اصولوں کی ترویج سے نئی نسل کو ان شرپسندوں کے پروپیگنڈے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
دیکھا جائے تو حالیہ واقعات اس سفاکانہ طرزِ عمل کی عملی تصویر پیش کرتے ہیں۔ دو ہفتے قبل اسلام آباد میں امام بارگاہ پر حملہ اور گزشتہ روز باجوڑ مدرسہ میں کی جانے والی دہشت گردانہ کاروائی فتنہ الخوارج کے اسی بدترین ایجنڈے کا تسلسل ہے۔ ان پے در پے حملوں سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ یہ گروہ محض اپنے مذموم مقاصد کے لیے اسلام اور دین کا سہارا لیتا ہے۔ معصوم شہریوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا قرآن و سنت کے واضح احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے، جو ثابت کرتی ہے کہ ان عناصر کا مقصد دین کی سربلندی نہیں بلکہ ریاست کو کمزور کر کے خونریزی کا بازار گرم کرنا ہے۔
دیکھیے: افغان سرزمین اور علاقائی سکیورٹی: طالبان کے بیانیے اور عالمی رپورٹس میں تضاد