خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالات دن بہ دن تشویشناک ہو رہے ہیں۔ مولانا امجد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام اور دینی شخصیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ حکمران محض ریلیوں اور جلسوں میں مصروف ہیں، حقیقی مسائل پر توجہ نہیں دے رہے۔ ان کے مطابق قرآن و اسلامی نظام سے دوری کی وجہ سے وطن متعدد مشکلات میں گھِرا ہوا ہے۔
جے یو آئی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا محمد امجد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علمائے اسلام عقائد اور وطن کے خلاف ہر سازش کا ہر محاذ پر مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ منعقدہ تقریب میں جامعہ اشرفیہ کے استاذ الحدیث مولانا احمد علی، مفتی ذکریا، مولانا بدرالدین، مولانا قاری مومن شاہ سمیت متعدد علماء نے شرکت کی۔
مولانا امجد خان نے واضح کیا کہ عقیدۂ ختم نبوت اور وطن کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن اور دینِ اسلام کو نقصان پہنچانے والے خود فنا ہو جائیں گے اور حق کے علمبردار اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔
دیگر علماء نے حکمرانوں سے درخواست کی کہ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے جرات مندانہ مؤقف اختیار کریں اور عالمی سطح پر واضح کریں کہ مسلمانوں کے پیغمبر خصوصاً رحمت دو عالم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے نوجوان نسل کو فتنوں، فحاشی اور بے راہ روی سے بچانے کے لیے مدارس اور دینی ماحول سے جوڑنے کی ضرورت پر گفتگو کی۔ علماء نے کہا کہ وہ کسی بھی سرکاری امداد کے محتاج نہیں کیونکہ انہیں ہمیشہ رب ذوالجلال کی رہنمائی اور مدد حاصل رہی ہے۔
دیکھیں: وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی پولیس لائن ٹانک آمد، پولیس کو خراج تحسین