پاکستان کے تین بڑے صوبوں پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے پولیس بجٹ اور وسائل کے اعداد و شمار نے صوبائی حکومتوں کی ترجیحات اور انتظامی کارکردگی پر بحث چھیڑ دی ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پنجاب پولیس کی 2 لاکھ 18 ہزار کی نفری کے لیے 200 ارب روپے، جبکہ سندھ پولیس کی 1 لاکھ 62 ہزار کی نفری کے لیے 117 ارب روپے کا بجٹ مختص ہے۔ اس کے برعکس خیبر پختونخوا پولیس کی نفری محض 80 ہزار ہے، لیکن اس کا مجموعی بجٹ 257 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔
وفاقی گرانٹ اور وسائل
خیبر پختونخوا پولیس کے اس بھاری بھرکم بجٹ میں 157 ارب روپے صوبائی بجٹ جبکہ 100 ارب روپے وفاق کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے دی جانے والی خصوصی سالانہ گرانٹ شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ اتنا خطیر ہے کہ اس سے ایک چھوٹی فوج تیار کر کے اسے جدید ترین ٹینکوں، ڈرونز اور میزائل سسٹم سے لیس کیا جا سکتا ہے۔ اس بجٹ کا بنیادی مقصد پولیس کو جدید اسلحہ، بم پروف گاڑیاں اور بہترین تربیت فراہم کرنا تھا۔
حکومتی ترجیحات پر سوالات
اتنے بڑے بجٹ کے باوجود خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے مسلسل اسلحے، بلٹ پروف گاڑیوں اور بم پروف تھانوں کا مطالبہ پی ٹی آئی حکومت کی انتظامی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں فی کس اہلکار کئی گنا زیادہ بجٹ ہونے کے باوجود پولیس فورس کو بنیادی حفاظتی سامان کی فراہمی میں ناکامی سمجھ سے بالاتر ہے۔
سیاسی بیانیہ اور عوامی ردعمل
صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور وسائل کی مبینہ عدم فراہمی پر جب حکومتی نمائندوں سے جواب طلب کیا جاتا ہے، تو عوامی حلقوں کے مطابق ان کی توجہ انتظامی اصلاحات کے بجائے سیاسی وفاداریوں اور پارٹی قیادت کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے۔
یہ صورتحال صوبے میں کرپشن کے خدشات اور بجٹ کے غیر شفاف استعمال کی نشاندہی کر رہی ہے، جس کے باعث فرنٹ لائن پر لڑنے والی فورس آج بھی تحفظ کے لیے ترس رہی ہے۔