"> خیبر پختونخوا پولیس کا 257 ارب روپے کا بجٹ: وسائل، کارکردگی اور ترجیحات پر سوالات - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

خیبر پختونخوا پولیس کا 257 ارب روپے کا بجٹ: وسائل، کارکردگی اور ترجیحات پر سوالات

پنجاب اور سندھ کے مقابلے میں خیبر پختونخوا پولیس کا بجٹ کئی گنا زیادہ ہونے کے باوجود فورس وسائل کی کمی کا شکار ہے، جس نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پنجاب اور سندھ کے مقابلے میں خیبر پختونخوا پولیس کا بجٹ کئی گنا زیادہ ہونے کے باوجود فورس وسائل کی کمی کا شکار ہے، جس نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

بھاری بجٹ کے باوجود خیبر پختونخوا پولیس کو اسلحہ اور حفاظتی وسائل کی کمی کا سامنا ہے، جس پر حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

May 14, 2026

پاکستان کے تین بڑے صوبوں پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے پولیس بجٹ اور وسائل کے اعداد و شمار نے صوبائی حکومتوں کی ترجیحات اور انتظامی کارکردگی پر بحث چھیڑ دی ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پنجاب پولیس کی 2 لاکھ 18 ہزار کی نفری کے لیے 200 ارب روپے، جبکہ سندھ پولیس کی 1 لاکھ 62 ہزار کی نفری کے لیے 117 ارب روپے کا بجٹ مختص ہے۔ اس کے برعکس خیبر پختونخوا پولیس کی نفری محض 80 ہزار ہے، لیکن اس کا مجموعی بجٹ 257 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔

وفاقی گرانٹ اور وسائل

خیبر پختونخوا پولیس کے اس بھاری بھرکم بجٹ میں 157 ارب روپے صوبائی بجٹ جبکہ 100 ارب روپے وفاق کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے دی جانے والی خصوصی سالانہ گرانٹ شامل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ اتنا خطیر ہے کہ اس سے ایک چھوٹی فوج تیار کر کے اسے جدید ترین ٹینکوں، ڈرونز اور میزائل سسٹم سے لیس کیا جا سکتا ہے۔ اس بجٹ کا بنیادی مقصد پولیس کو جدید اسلحہ، بم پروف گاڑیاں اور بہترین تربیت فراہم کرنا تھا۔

حکومتی ترجیحات پر سوالات

اتنے بڑے بجٹ کے باوجود خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے مسلسل اسلحے، بلٹ پروف گاڑیوں اور بم پروف تھانوں کا مطالبہ پی ٹی آئی حکومت کی انتظامی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں فی کس اہلکار کئی گنا زیادہ بجٹ ہونے کے باوجود پولیس فورس کو بنیادی حفاظتی سامان کی فراہمی میں ناکامی سمجھ سے بالاتر ہے۔

سیاسی بیانیہ اور عوامی ردعمل

صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور وسائل کی مبینہ عدم فراہمی پر جب حکومتی نمائندوں سے جواب طلب کیا جاتا ہے، تو عوامی حلقوں کے مطابق ان کی توجہ انتظامی اصلاحات کے بجائے سیاسی وفاداریوں اور پارٹی قیادت کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے۔

یہ صورتحال صوبے میں کرپشن کے خدشات اور بجٹ کے غیر شفاف استعمال کی نشاندہی کر رہی ہے، جس کے باعث فرنٹ لائن پر لڑنے والی فورس آج بھی تحفظ کے لیے ترس رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *