خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ایک مشترکہ اور انتہائی منظم آپریشن کرتے ہوئے ‘فتنہ الخوارج’ کے 22 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع خیبر کے مخصوص علاقے میں کیا گیا جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی مستند اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ سکیورٹی فورسز نے جیسے ہی علاقے کو گھیرے میں لیا، دہشت گردوں نے فرار ہونے کی کوشش میں اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ سکیورٹی فورسز نے جرات کا مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو موثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 22 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
معصوم بچے کی شہادت
آئی ایس پی آر نے افسوسناک تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ آپریشن کے دوران جب دہشت گردوں کو سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لیا تو انہوں نے بزدلانہ کاروائی کرتے ہوئے بلا امتیاز فائرنگ کی جس کی زد میں آ کر ایک 10 سالہ معصوم بچہ شہید ہو گیا۔ دہشت گردوں کی یہ فائرنگ ان کی بوکھلاہٹ اور انسانی جانوں سے بے پروائی کا واضح ثبوت ہے۔
اسلحہ کی برآمدگی اور کلیئرنس آپریشن
ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید خودکار اسلحہ، دستی بم اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گرد علاقے میں تخریب کاری کی بڑی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ علاقے کو دہشت گردوں سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کا سرچ اور کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ مفرور دہشت گرد کا سراغ لگایا جا سکے۔
عزمِ استحکام اور قومی سلامتی کا عہد
آئی ایس پی آر نے اپنے اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ آپریشن “عزمِ استحکام” کے تحت ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ سیکیورٹی فورسز اور قوم کے حوصلے بلند ہیں اور پاک سرزمین سے فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا۔ سیکیورٹی فورسز کی یہ بروقت کارروائی خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔