پاک چین تاجر اتحاد ایکشن کمیٹی کی جانب سے گزشتہ سال دیا گیا 68 دنوں کا تاریخی دھرنا اور طویل جدوجہد رنگ لے آئی۔ سوست بارڈر پر پہلی تجارتی کنسائمنٹ پہنچ گئی ہے، جس پر تمام ٹیکسز معاف کر کے مکمل عملدرآمد یقینی بنایا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سوست بارڈر پر پہنچنے والی یہ پہلی کنسائمنٹ معروف کاروباری شخصیت جلال الدین کی ہے۔ اس کنسائمنٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس پر حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے تاجروں کے لیے مختص کردہ آئینی ضابطہ کار کے تحت تمام ٹیکسز کی چھوٹ دی گئی ہے۔ تاجر برادری اسے خطے کی معاشی تاریخ میں ایک سنگِ میل قرار دے رہی ہے، کیونکہ اس سے قبل ٹیکسز کے معاملات پر تاجروں اور انتظامیہ کے درمیان طویل تنازع برقرار تھا۔
تاجر برادری کا ردِعمل
اس موقع پر جلال الدین نے پاک چین تاجر اتحاد ایکشن کمیٹی اور اس کی سپریم کونسل کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری تاجر برادری کی اجتماعی جدوجہد اور اتحاد کا نتیجہ ہے، جس نے نامساعد حالات میں بھی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔
عوام کے لیے ریلیف اور معاشی اثرات
پاک چین تاجر اتحاد ایکشن کمیٹی کے ترجمان عباس میر نے اس تاریخی کامیابی پر گلگت بلتستان کے عوام کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں عوامی حمایت نے تاجروں کے حوصلے بلند رکھے۔ عباس میر کا مزید کہنا تھا کہ “اب چین کی قیمتوں پر سامان گلگت بلتستان کی مارکیٹوں میں دستیاب ہوگا، جس سے مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کو براہِ راست ریلیف ملے گا اور خطے میں تجارتی سرگرمیاں تیز ہوں گی۔”
پس منظر
یاد رہے کہ گزشتہ سال پاک چین تاجر اتحاد نے ٹیکسز کے نفاذ اور آئینی ضابطہ کار پر عملدرآمد کے حق میں 68 روز تک مسلسل دھرنا دیا تھا، جس کے بعد حکومت اور انتظامیہ نے تاجروں کے مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ آج پہلی کنسائمنٹ کی ٹیکس فری کلیئرنس اسی معاہدے کی عملی صورت ہے۔