پاکستان نے وسطی ایشیائی ریاستوں کو اپنی جنوبی بندرگاہوں سے جوڑنے کے لیے چین کے راستے ایک نئی تجارتی راہداری کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں کرغزستان سے سامان کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی ہے، جس سے ملک کو خطے کے اہم ٹرانزٹ حب کے طور پر نئی شناخت ملی ہے۔
افغانستان کا متبادل
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کی وجہ سے روایتی تجارتی راستے اکثر متاثر رہتے ہیں۔ زمینی طور پر محصور وسطی ایشیائی ریاستیں طویل عرصے سے عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے متبادل کی تلاش میں تھیں۔ اب اسلام آباد نے انہیں خنجراب پاس اور سوست ڈرائی پورٹ کے ذریعے ایک محفوظ اور تیز رفتار کوریڈور فراہم کر دیا ہے۔
First Central Asian shipment reaches Pakistan via China, bypassing Afghanistan | Arab News PK https://t.co/LWselu8rXC
— Waseem Abbasi (@Wabbasi007) April 23, 2026
وسطی ایشیائی ریاستوں کی براہِ راست رسائی
نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس نئے روٹ کے ذریعے کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان، قازقستان اور ازبکستان کو کراچی پورٹ تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی۔ این ایل سی کا کہنا ہے کہ “پاکستان اب وسطی ایشیائی ممالک کے لیے ایک تیز، محفوظ اور قابلِ بھروسہ تجارتی راہداری بن چکا ہے۔”
علاقائی تجارت اور معاشی اثرات
حکام کے مطابق یہ کھیپ ایک ٹرانزٹ معاہدے کے تحت این ایل سی کی پارٹنر کمپنی کے ذریعے لائی گئی ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی ان کوششوں کا حصہ ہے جس کے تحت وہ اپنی جغرافیائی اہمیت کو بروئے کار لاتے ہوئے بحیرہ عرب تک وسطی ایشیا کے لیے گیٹ وے بننا چاہتا ہے۔ جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باعث عالمی سپلائی چین میں ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں یہ راستہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
مستقبل کے امکانات
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس راستے کے طویل مدتی استحکام کا دارومدار انفراسٹرکچر کی گنجائش اور علاقائی تعاون پر ہے، تاہم یہ راہداری خطے میں تجارت کے لیے استحکام اور پیشگوئی فراہم کرے گی۔ اس نئے تجارتی روٹ سے نہ صرف پاکستان کی بندرگاہوں کے استعمال میں اضافہ ہوگا بلکہ گلگت بلتستان سمیت پورے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔