بلوچستان کے علاقے کلی زائیک میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان سے وابستہ 2 دہشتگردوں کو ہلاک جبکہ 3 کو زخمی کر دیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق بسیمہ کیمپ سے تقریباً 12 کلومیٹر شمال میں کلی زائیک اور کاغلی کے درمیان دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں 2 دہشتگرد ہلاک اور 3 زخمی ہوئے۔
ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں سے ایک کی شناخت مشتاق احمد عرف کوہ یار کے نام سے ہوئی ہے۔ کارروائی کے بعد دہشتگردوں کے قبضے سے ایمونیشن، میگزین، دستی بم اور آئی ای ڈی تیار کرنے کا سامان بھی برآمد کیا گیا۔
خیال رہے کہ اس سے ایک روز قبل خاران کے علاقے لجے میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت فتنہ الخوارج کے 7 دہشتگرد بھی ہلاک ہوئے تھے۔ وفاقی حکومت گزشتہ سال بلوچستان میں سرگرم تمام عسکریت پسند گروہوں کو باضابطہ طور پر فتنہ الہندوستان قرار دے چکی ہے، اور بھارت پر ان تنظیموں کی سرپرستی کے ذریعے پراکسی جنگ چلانے کا الزام عائد کرتی ہے۔
سکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور دیرپا امن کے قیام تک انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھی جائیں گی۔